ریونت ریڈی ’’ہائبرڈ چیف منسٹر‘‘ کے ٹی آر کا الزام

KTR-8

بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ریونت ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’ہائبرڈ چیف منسٹر‘‘ قرار دیا۔ نئی حد بندی میں جنوبی ہند کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو ہرگز قبول نہ کرنے کا اعلان کیا۔ کے ٹی آر نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریونت ریڈی کے سیاسی موقف میں مستقل مزاجی نہیں ہے۔ وہ صبح کانگریس کے نمائندے اور شام کو بی جے پی لیڈر کی طرح رویہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ کانگریس سے قبل تلگودیشم میں تھے اس سے پہلے کونسی پارٹی میں تھے سب جانتے ہیں۔ ریونت ریڈی کی غلط حکمرانی سے تلنگانہ کے قرض میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ ریاست میں معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ سرکاری ملازمین، خواتین، بیروزگار نوجوانوں، کسانوں کے علاوہ سماج کے تمام طبقات سے کیا گیا کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا ہے جس سے عوام میں کانگریس حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے۔ جب بھی ریاست میں انتخابات منعقد ہوں گے بی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی خواتین تحفظات بل کی مکمل تائید و حمایت کرے گی مگر نئی حد بندی (Delimitation) کے معاملے میں اگر جنوبی ہند سے ناانصافی ہوتی ہے تو اس کی سختی سے مخالفت کرے گی۔ 2؍F
اگر پارلیمنٹ میں جنوبی ہند کی نمائندگی کم کی گئی تو اس کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم شروع کرے گی۔ انہوں نے حدبندی کے مسئلہ پر اپنی پارٹی کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ اگر صرف آبادی کی بنیاد پر نشستوں میں اضافہ کیا گیا تو یہ جنوبی ہند کی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے کے ٹی آر نے ’ہائبرڈ ماڈل‘‘ کی تجویز پیش کی جس کے تحت 50 فیصد نشستیں آبادی کی بنیاد پر اور اور ماباقی 50 فیصد نشستیں ریاستوں کی اقتصادی ترقی (GDP) کی بنیاد پر مختص کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا ماڈل جنوبی ریاستوں کے لئے منصفانہ ہوگا کیونکہ ان ریاستوں نے نہ صرف آبادی پر قابو پایا ہے بلکہ ملک کی معاشی ترقی میں بھی اہم رول ادا کیا ہے۔