تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی ٹھپ ، من مانی فیصلوں کی شکایتیں

haj-huse

تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی ٹھپ ہونے کے نتیجہ میں جاری من مانی فیصلوں کے دوران ا س بات کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں کہ تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیدار بورڈ کے اصولوں اور قواعد کے بجائے حکومت کے دباؤ کے تحت فیصلے کرتے ہوئے مساجد کی کمیٹیوں اور درگاہوں کے متعلق اقدامات کر رہے ہیں۔وقف بورڈ کا اجلاس طلب کرنے کے معاملہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والے عہدیدار خود حکومت کی ایماء پر من مانی فیصلہ کرتے ہوئے بورڈ کے اختیارات کو چیالنج کرنے کے مرتکب بن رہے ہیں اور کہاجا رہاہے کہ وقف بورڈ کی کارکردگی کو جس طرح سے منظم انداز میں برباد کیا جا رہاہے اس کی بنیادی وجہ دراصل وقف جائیدادوں کی تباہی کی نشاندہی نہ ہواور ایسے موقوفہ ادارہ جات جن کے تحت قیمتی اوقافی جائیدادیں موجود ہیں ان اداروں میں اپنی مرضی کی کمیٹیوں کی تشکیل کے علاوہ درگاہوں کے ہراج کے معاملہ میں اپنی مرضی چلائی جائے۔ شہر حیدرآباد کے نواحی علاقہ اپل میں قطب شاہی مسجد ایک مینار ‘ اپل اسٹیڈیم کی کمیٹی کی تشکیل کے معاملہ میں کی جانے والی دھاندلیوں کے سلسلہ میں جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ان کے مطابق مذکورہ مسجد کی کمیٹی کی تشکیل کے معاملہ میں حکومت کی جانب سے دباؤ ڈالتے ہوئے موجودہ کمیٹی کو برخواست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اپنی مرضی کے مطابق کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جاسکے۔مسجد کمیٹی تشکیل کیلئے لازمی ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ کا اجلاس منعقد ہولیکن بورڈ کے اجلاس کے انعقاد میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے حائل کی گئی رکاوٹوں کے پیش نظر بورڈ کا اجلاس منعقد نہیں ہورہا ہے لیکن مساجد کمیٹیوں اور اوقافی اداروں میں اڈہاک اساس پر کمیٹیوں کی تشکیل کی جار ہی ہے اور یہ دعویٰ کیا جار ہا ہے کہ ریاستی حکومت کے دباؤ کے نتیجہ میں یہ احکامات جاری کئے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہیں۔قطب شاہی مسجد ایک مینار کے معاملہ میں اس بات کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ موجود ہ کمیٹی کے ذمہ داروں نے مسجد کے تحت موجود کھلی اراضی کے استعمال سے غیر مجاز افراد کو روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں اب کمیٹی کے خلاف ہی مہم چلاتے ہوئے وہ لوگ جو مسجد کے تحت موجود کھلی اراضی کا استعمال کرتے ہوئے دولت کما رہے تھے انہوں نے مسجد کمیٹی کے ذمہ داروں کے خلاف مہم شروع کرتے ہوئے تلنگانہ وقف بورڈ پر ریاستی حکومت کے ذریعہ دباؤ ڈالتے ہوئے اڈہاک کمیٹی کی تشکیل کے احکام حاصل کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔