انڈسٹریل کاریڈور کیخلاف کسانوں کا مظاہرہ ، پولیس اور احتجاجیوں میں ٹکراؤ

انڈسٹریل کاریڈور کے نام پر حصول اراضی کے خلاف کسانوں کی جدوجہد ضلع وقار آباد میں پرتشدد رخ اختیار کرگئی۔ پولیس اور کسانوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث حالات اچانک کشیدہ ہوگئے اور علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔ تفصیلات کے مطابق پرگی علاقہ میں صنعتوں کے قیام کے لئے زرعی اراضیات کے حصول کے خلاف کسان گزشتہ کئی دنوں سے احتجاج کررہے ہیں۔ چہارشنبہ کو تلنگانہ جاگرتی کی سربراہ سابق ایم ایل سی کے کویتا کسانوں کی تائید و حمایت میں سینکڑوں مظاہرین کے ساتھ آر ڈی او آفس کے سامنے دھرنے میں شریک ہوئیں اور دفتر کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس نے احتجاجیوں کو روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جس کے بعد کشیدگی بڑھ گئی۔ پولیس نے جب کویتا کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تو کسانوں اور کارکنوں نے مزاحمت کی جس سے ہاتھا پائی کی نوبت آئی۔ حالات ہے قابو ہونے پر پولیس نے کویتا کو زبردستی گاڑی سے اتار کر حراست میں لے لیا اور انہیں این ٹی آر چوراہا منتقل کردیا جبکہ ان کی گاڑی کو بھی دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔ گرفتاری سے قبل کویتا نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو مارکر صنعتیں قائم کرنے کا کیا فائدہ؟ انہوں نے لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی زمینوں کے لئے لڑنے والے کسانوں پر طاقت کا استعمال ناانصافی ہے۔ کویتا نے کہا کہ ان کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کے حصول اراضی کا نوٹیفکیشن منسوخ نہیں کیا جاتا۔ کویتا کی گرفتاری کے بعد وقار آباد میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔ مختلف مقامات پر احتجاجی جلوس نکالے گئے جس کے باعث ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے ضلع میں اضافی پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔
