نوجوانوں کو آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں: پرینکا گاندھی

کانگریس قائد پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔ نوجوانوں کے حق میں آر ایس ایس سربراہ کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ جمہوریت میں احتجاج بات چیت کے لئے ایک درست راستہ ہے اور طلبہ اور نوجوانوں میں پھوٹ پیدا کرنے کے بجائے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ موہن بھاگوت نے ایک پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے Gen-Z کی تائید کی اور کہا تھا کہ ان کی شکایات واجبی ہیں۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ نوجوانوں کو احتجاج پر ملک دشمن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پرینکا گاندھی نے موہن بھاگوت کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ پرچہ کے افشاء کے خلاف طلبہ اور نوجوانوں میں متحدہ طور پر احتجاج کے ذریعہ حکومت کو جھکنے پر مجبور کردیا۔ طلبہ اور نوجوانوں کو موہن بھاگوت کی تائید کے بارے میں پوچھے جانے پر پرینکا گاندھی نے کہا کہ Gen-Z کو موہن بھاگوت کے سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ حالات سے خوفزدہ دکھائی دے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے غیر حاضر ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ امیت شاہ کو پارلیمنٹ پہنچ کر بیان دینا چاہئے۔ وزیر داخلہ کی حیثیت سے انہیں حالات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے ۔ پرینکا گاندھی نے 20 جولائی کو جنتر منتر پر پولیس زیادتیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ بھی غلط ہوا ہے ، اس کی ذمہ داری امیت شاہ کو قبول کرنی چاہئے۔ موہن بھاگوت نے ممبئی میں ایک پروگرام میں کہا تھا کہ طلبہ اور نوجوانوں میں تعلیمی نظام کے بارے میں جس تشویش کا اظہار کیا ہے ، وہ درست ہے۔ انہوں نے تعلیم کے شعبہ پر بجٹ کا 6 فیصد حصہ خرچ کئے جانے کی تائید کی۔ موہن بھاگوت نے طلبہ کی جانب سے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگر Gen-Z کے ارکان احتجاج کرتے ہیں تو وہ ملک دشمن نہیں ہے۔ وہ ہمارے سماج کا حصہ ہے اور وہی ملک کی آئندہ نسل ہے، لہذا ان سے بات چیت کی جانی چاہئے۔ طلبہ کے احتجاج سے نمٹنے حکومت کے طریقہ کے خلاف اپوزیشن پارلیمنٹ کے دونوں ا یوانوں میں مسلسل احتجاج کر رہا ہے۔
