ہندوستان میں اسکول کی سطح پر سائنس اور ٹیکنالوجی کی درکار سہولتیں دستیاب نہیں

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہندوستان بھی سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی کا دعویٰ کررہا ہے لیکن اسکولی سطح پر اِس شعبہ کی تعلیم کے معاملہ میں کئی ریاستوں کا مظاہرہ مایوس کن رہا ہے۔ ہندوستان کے اسکولوں میں سائنس لیباریٹری کی موجودگی پر سروے کیا گیا جس میں اِس بات کا انکشاف ہوا کہ بیشتر ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے اسکول طلبہ کے لئے خصوصی سائنس لیاب کی سہولت سے محروم ہیں۔ ملک بھر میں محض 57.6 فیصد اسکولوں میں سائنس لیباریٹریز کی موجودگی درج کی گئی ہے۔ اِس شعبہ میں دہلی اور گوا سرفہرست ہے جہاں علی الترتیب 99.7 فیصد اور 98.9 فیصد اسکولوں میں سائنس لیاب قائم کیا گیا ہے۔ اڈیشہ، پوڈوچیری، ٹاملناڈو اور کرناٹک کا اِس شعبہ میں مظاہرہ قدرے بہتر رہا ہے جہاں کے 77 تا 81 فیصد اسکولوں میں طلبہ کے لئے لیباریٹری کی سہولت موجود ہے۔ عام طور پر بڑی ریاستوں کے اسکولوں میں طلبہ کے لئے عصری ٹیکنالوجی کے انتظامات ضروری ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ راجستھان اور بہار جیسی ریاستوں کے اسکولوں میں سائنس کی تعلیم تو دی جاتی ہے لیکن علیحدہ لیاب موجود نہیں ہے۔ راجستھان میں 26.8 فیصد اور بہار میں 27.7 فیصد اسکولوں میں لیاب کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے معاملہ میں علیحدہ اعداد و شمار درج کئے گئے ہیں۔ نوقائم شدہ تلنگانہ ریاست کے 70.6 فیصد اسکولوں میں سائنس لیباریٹریز کی دستیابی اِس شعبہ سے حکومت کی دلچسپی کا مظہر ہے۔ آندھراپردیش میں 58.5، ٹاملناڈو 79 فیصد اور کیرالا میں 74.5 فیصد اسکولوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کو ترجیح حاصل ہے۔
