مصنوعی ذہانت کو عالمی سطح پر مقبولیت، سرمایہ کاری میں امریکہ سرفہرست

TOP_15-15

آرٹیفیشل انٹلی جنس کی مقبولیت کے نتیجہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ سے زیادہ سرمایہ کاری نئی ٹیکنالوجی میں دیکھی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک نے آرٹیفیشل انٹلی جنس کے استعمال اور فروغ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے اِس شعبہ میں سرمایہ کاری کے معاملہ میں دنیا کے 10 اہم ممالک کی نشاندہی کی گئی جس میں امریکہ 471 بلین ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے۔ امریکہ میں نئی ٹیکنالوجی کو عوامی خدمات کے مختلف شعبوں میں متعارف کیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے اِس شعبہ میں چین کی سرمایہ کاری 119 بلین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ برطانیہ، کینیڈا، اسرائیل، جرمنی، ہندوستان، فرانس، ساؤتھ کوریا اور سنگاپور نے بھی اِس شعبہ کی سرمایہ کاری میں اضافہ کرتے ہوئے نہ صرف روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا بلکہ خدمات کو بہتر بنانے کی مساعی کی ہے۔ جن ٹاپ 10 ممالک نے مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں بہتر سرمایہ کاری کی ہے اُن میں برطانیہ 28 بلین ڈالر، کینیڈا 15 بلین ڈالر، اسرائیل 13 تا 15 بلین ڈالر، جرمنی 13 بلین ڈالر، ہندوستان 11 بلین ڈالر اور سنگاپور 7 بلین ڈالر شامل ہیں۔ ہندوستان نے بھی مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں غیرمعمولی ترقی کی ہے اور عوامی خدمات کے علاوہ خانگی شعبہ جات نے بھی اِس نئی ٹیکنالوجی کو اختیار کرتے ہوئے عصری ٹیکنالوجی سے اپنی ہم آہنگی کا ثبوت دیا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال میں یوں تو کرناٹک، تلنگانہ، آندھراپردیش کے علاوہ کیرالا اور نئی دہلی کو سبقت حاصل رہی ہے لیکن مصنوعی ذہانت کے متعارف ہونے کے بعد ریاستوں کے درمیان ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے کے لئے مسابقت شروع ہوچکی ہے۔