SIR مہم میں دھاندلیاں ملک کیساتھ دھوکہ:پرینکا گاندھی

کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرہ نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اس بات سے واقف تھے کہ ملک میں الیکشن میں دھاندلیاں کی جارہی ہے اور انہوں نے اس کی اجازت دی تو یہ عمل ملک کے ساتھ دھوکہ اور غداری کے مترادف ہے ۔ کیرالا کے وائیناڈ لوک سبھا حلقہ کی نمائندگی کرنے والے پرینکا گاندھی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو کوئی بھی اس کام میں ملوث ہیں انہیں ضرور نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی SIR مہم میں بے قاعدگیوں کو مسلسل بے نقاب کررہے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ناانصافیوں اور یکطرفہ فیصلوں کو راہول گاندھی نے عوام کے روبرو پیش کیا ۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ انہوں نے بارہا ایس آئی آر سے متعلق مسائل کو پیش کیا اور اب اخبارات اور میڈیا کی خبروں میں بھی انکشاف ہورہا ہے ۔ دو الیکشن کمشنران کی جانب سے چیف الیکشن کمیشن گیانیش کمار کو پیش کردہ اعتراضات کا معاملہ بھی منظر عام پر آیا ۔ پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ جمہوریت کیلئے انتہائی سنگین ہے کیونکہ جب الیکشن ہی نہ ہوں تو جمہوریت کا کیا تصور رہ جائے گا ۔ جب انتخابات غیرمنصفانہ اور دھاندلیوں پر مبنی ہوں اور الیکشن کمشنر جانتے ہوئے بھی اس کی اجازت دیں تو یہ جمہوریت پر حملہ کا سنگین معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا عمل ملک کے ساتھ دھوکہ دہی اور غداری کے مترادف ہے ۔ پرینکا گاندھی نے الیکشن کمشنران سکھبیر سنگھ سندھو اور ویویک جوشی کی جانب سے ایس آئی آر مہم میں مختلف ریاستوں میں ناموں کو حذف کئے جانے کے مسئلہ پر اعتراضات کا حوالہ دیا ۔ انگریزی روزنامہ میں رپورٹ کی اشاعت کے بعد الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے کہا کہ ایس آئی آر مہم کے سلسلہ میں کمیشن کے تمام فیصلے متفقہ رہے ۔ پرینکا گاندھی جو اپنے حلقہ کے 10روزہ دورہ پر ہے کہا کہ جو کوئی بھی اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل ہیں مناسب تحقیقات کے بعد انہیں بخشا نہیں جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کی جانچ ایسے افراد کو نہیں کرنی چاہیئے کو آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات نہیں کرسکتے ۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ اس طرح کے معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ہم ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے بے تکان کام کررہے ہیں، جب کہ الیکشن کمیشن اسے کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی میڈیا میں شائع ہوا ہے درست ہو تو طویل عرصہ سے کانگریس پارٹی کی جانب سے ظاہر کردہ اندیشے درست قرار پائے ہیں ۔ مہاراشٹرا اور ہریانہ میں فہرست رائے دہندگان میں بے قاعدگیاں اور لاکھوں افراد کے ناموں کو حذف کرنے کے مسئلہ پر کانگریس نے ثبوت کے ساتھ حقائق کو عوام کو روبرو پیش کیا تھا ۔ جو کوئی بھی اس طرح کی کارروائیوں میں شامل ہیں انہیں ذمہ دار بنایا جائے گا ۔
