شہر میں ایک دن کی بجائے 3 دن کے وقفہ سے پانی کی سربراہی کے اندیشے

حیدرآباد میں ایک دن کے وقفہ کی بجائے اب 3 دن کے وقفہ سے پینے کے پانی کی سربراہی عمل میں لائی جائے گی! حیدرآباد وسکندرآباد پینے کے پانی کی قلت کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ شہر اور آؤٹر رنگ روڈ کے حدود میں پانی کی قلت کے خدشات ظاہر کئے جانے لگے ہیں اور ماہرین کا کہناہے کہ اگر ایل ۔نینو کا اثر یوں ہی برقرار رہتا ہے تو دونوں شہروں میں آئندہ 80 یوم کے دوران 30 لاکھ سے زائد سربراہی آب کے کنکشن متاثر ہونگے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں پینے کے پانی کی سربراہی کے اقدامات کا ذمہ دار ادارہ حیدرآباد میٹرو پولیٹین واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ کے عہدیدار تشویش کا اظہار کرنے لگے ہیں کیونکہ ان کا کہناہے کہ جن ذخائر آب سے شہر میں پینے کے پانی کی سربراہی عمل میں لائی جاتی ہے ان کی سطح میں تیزی سے کمی آنے لگی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سنگور ڈیم جہاں سے شہر کو یومیہ 110ملین گیالن پانی سربراہ کیا جاتا ہے اس کی سطح آب میں گراوٹ عہدیداروں اور ماہرین کو تشویش میں مبتلاء کرنے لگی ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں یومیہ 576 ملین گیالن پانی سربراہ کیا جاتاہے اور اس پانی کی سربراہی حمایت ساگر ‘ عثمان ساگر ‘ منجیرا ‘ سنگور ‘ کرشنا اور گوداوری سے سربراہی عمل میں لائی جاتی ہے اور 576 MGD پانی میں 110MGD پانی سنگور سے سربراہ کیا جاتا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ اگر سنگور ڈیم اگر خشک ہوتا ہے تو خیریت آباد و اطراف کے علاقہ جو قلب شہر کہلاتا ہے وہ شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دونوں شہروں میں پانی کی قلت کا آغاز اگر ہوتا ہے تو دیگر علاقہ جات بھی متاثر ہونے لگ جائیں گے۔ سنگور میں موجود پانی کی مقدار کا جائزہ لیتے ہوئے عہدیداروں کا کہناہے کہ 80 یوم حیدرآباد میں پانی کی سربراہی ممکن ہوسکتی ہے اور اس کے بعد پینے کے پانی کی سربراہی میں مشکلات پیدا ہونگی۔ذرائع کے مطابق ذخائر آب کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے سرکاری طور پر پینے کے پانی کی سربراہی کو محدود کرنے و محتاط سربراہی کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے اور اگر پانی کی سربراہی کو محدود کیا جاتا ہے تو دونوں شہروں کے 30لاکھ سے زائد آبرسانی کنکشن متاثر ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ آبرسانی سے ایک دن کے وقفہ سے جو پینے کے پانی کی سربراہی عمل میں لائی جا رہی ہے اسے تین دن کے وقفہ سے کرنے کا جائزہ لیا جا رہاہے او رکہا جارہاہے کہ اگر پانی کی قلت سے نمٹنا ہے تو ایسے سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔عہدیداروں کے مطابق ان کی تجاویز جلد حکومت کو پیش کرکے منظوری حاصل کی جائے گی ۔
