تلنگانہ ٹکنالوجی ڈیٹا سنٹر اور آرٹیفیشل انٹلی جنس کے مرکز میں تبدیلی کی طرف گامزن

WhatsApp-Image-2026-09-25-at-6.53.13-PM-copy.jpeg

وزیر آئی ٹی تلنگانہ ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ ریاست ٹکنالوجی ڈیٹا سنٹرز اور مصنوعی ذہانت کے ایک عالمی مرکزکے طور پر ابھر رہی ہے ۔ رنگاریڈی ضلع کے چندنا ویلی علاقہ میں مائیکرو سافٹ کے ’ انڈیا ساوتھ سنٹرل ڈیٹا سنٹر ریجن ‘ کا افتتاح کیا ۔ وزیر نے اس موقع پر کہا کہ اس مرکز کے ذریعے حیدرآباد نہ صرف ہندوستان بلکہ ایشیاء اور گلوبل ساوتھ کے خطوں کے لیے بھی مصنوعی ذہانت اور کلاوڈ ٹکنالوجی کا ایک اہم مرکز بن جائے گا ۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران حیدرآباد اور مائیکرو سافٹ کے درمیان قائم تعلقات منفرد نوعیت کے ہیں ۔ تلنگانہ میں پہلے ہی 300 میگاواٹ کی مجموعی صلاحیت کے حامل ڈیٹا سنٹرز کام کررہے ہیں جب کہ 2 گیگاواٹ کی صلاحیت کے حامل دیگر مراکز کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔ حکومت کا ہدف ہے کہ 2029 تک اس صلاحیت کو بڑھاکر 5 گیگا واٹ تک پہنچایا جائے اور 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی جائے ۔ فی الحال مجموعی طور پر 12 گیگا واٹ صلاحیت کے حامل ڈیٹا سنٹرز کے قیام کی درخواستوں کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ دارالحکومت سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعے ڈیٹا سنٹرز کو صاف شدہ پانی فراہم کرنے والا پہلا شہر بن گیا ہے ۔ مائیکرو سافٹ کا قائم کردہ یہ ڈیٹا سنٹرس زیرو واٹر کولنگ ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ماحول دوست انداز میں کام کرتا ہے ۔ مائیکرو سافٹ انڈیا ڈیولپمنٹ سنٹر کے ایم ڈی اور صدر راجیو کمار نے کہا کہ حیدرآباد دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ہندوستان میں مائیکرو سافٹ کے سفر کا ایک اہم حصہ رہا ہے ۔