خلائی تحقیق کے شعبہ میں امریکہ کے مصارف 79 بلین ڈالر

TOP_11-11

خلائی تحقیق کے شعبہ میں اہم ممالک نے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دیتے ہوئے سیٹلائٹس کے ذریعہ تحقیقی آلات کو روانہ کرتے ہوئے اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ خلائی تحقیق کے شعبہ میں 10 ممالک کی نشاندہی کی گئی جنھوں نے اِس شعبہ پر زائد بجٹ خرچ کیا ہے۔ امریکہ خلائی تحقیق کے مصارف کے معاملہ میں دنیا میں سرفہرست ہے جس نے اِس شعبہ پر 79.7 بلین ڈالر خرچ کئے ہیں۔ ناسا خلائی تحقیق کے ادارہ کے ذریعہ امریکہ اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہا ہے۔ چین 19.9 بلین ڈالر کے مصارف کے ساتھ اِس شعبہ میں دوسرے نمبر پر ہے۔ جاپان اور فرانس نے علی الترتیب 4.9 بلین ڈالر اور 4.5 بلین ڈالرس خرچ کرتے ہوئے اِس فہرست میں خود کو نمایاں رکھا ہے۔ روس، جرمنی اور اٹلی نے بھی خلائی تحقیق کے مصارف میں کوئی کمی نہیں کی۔ اِن تینوں ممالک نے خلائی تحقیق پر 2.3 بلین ڈالر تا 3.4 بلین ڈالر خرچ کئے ہیں۔ ہندوستان بھی خلائی تحقیق کے شعبہ میں دیگر ممالک کے ساتھ مسابقت کررہا ہے اور اُس نے اِس شعبہ پر 1.9 بلین ڈالر خرچ کرتے ہوئے خود کو برطانیہ اور ساؤتھ کوریا سے آگے رکھا ہے۔ ہندوستان میں اسرو خلائی تحقیق کا اہم ادارہ ہے اور اِس کی خاص بات یہ ہے کہ اسرو نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دیگر کئی ممالک کے سیٹلائٹس کو کامیابی کے ساتھ خلاء میں روانہ کیا ہے۔ خلائی تحقیق کے ذریعہ نہ صرف ماحولیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھی جاتی ہے بلکہ دشمن ممالک کی فوجی سرگرمیوں کا احاطہ کیا جاسکتا ہے۔ سیٹلائٹس کے ذریعہ جنگ کے دوران ڈرون ٹیکنالوجی سے دشمن کے ٹھکانوں کو بہ آسانی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ خلائی تحقیق کے اہم پراجکٹس میں شامل ممالک میں ماہرین نے ٹاپ 10 کی فہرست جاری کی ہے۔ اِس شعبہ میں سب سے کم حصہ داری ساؤتھ کوریا کی ہے جو 0.7 بلین ڈالر تک محدود ہے۔