کیا مودی کا بت ٹوٹ رہا ہے ؟

سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور بی آر ایس پارٹی گزرے اور انہیں ناقابل یقین شکست ہوئی۔ اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت طویل عرصے سے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سی بی آئی اور انکم ٹیکس جیسے اداروں کو استعمال کر رہی ہے۔ لیکن اس مسئلہ نے اس وقت عوام کو جھنجھوڑا جب چیف منسٹر دہلی اور عام آدمی پارٹی لیڈر اروند کجریوال کو آبکاری پالیسی اسکام سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا گیا۔ کجریوال کی گرفتاری سے عوام کے دلوں میں یہ خیال راسخ ہوا کہ واقعی مودی حکومت مرکزی ایجنسیوں کا استحصال کر رہی ہے۔ بی جے پی کے بڑھتے رتھ کو سپریم کورٹ نے بھی اس وقت ایک جھٹکا دیا جب اس نے الکٹورل بانڈ اسکیم کو غیردستوری قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور اس سے ہزاروں کروڑ روپیے کا کرپشن یا لین دین بے نقاب ہوا اور ایک صاف ستھری جماعت کی حیثیت سے بی جے پی کی امیج کو خود اس کے حامیوں میں داغ لگا۔ ہر بار لوک سبھا انتخابات میں بیانیے کی جنگ بھی ہوتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ میں اس مرتبہ اپوزیشن فاتح رہا۔ کانگریس لیڈر راہول گاندھی اور دوسرے اپوزیشن قائدین کے ان بیانات پر لوگ یقین کر رہے ہیں کہ یہ انتخابات ملک کی جمہوریت اور دستور کے تحفظ کے لئے ہیں۔ ان انتخابات میں موضوعات کا تعین بی جے پی یا مودی نہیں بلکہ اپوزیشن پارٹیاں کر رہی ہیں۔ بی جے پی نے 2014 ء اور 2019 ء میں ملک میں ذات پات کی شناخت کو زائل کرنے اور ہندوتوا شناخت کو ابھارنے میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس مرتبہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوتوا کی شناخت پر ذات پات کی شناخت غالب آگئی ہے اور اس مرتبہ شمالی ہند کی ریاستوں میں ووٹرس ذات پات کی بنیاد پر ووٹ دے رہے ہیں۔ اس کا سہرا راہول گاندھی کے سر جاتا ہے جنہوں نے طبقاتی سروے کو اپنا مرکزی موضوع بنایا اور اس میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ذات پات کے سروے کی تجویز بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار نے پیش کی تھی جو اب این ڈی اے میں ہیں۔ لیکن راہول گاندھی اور اپوزیشن کیمپ نے اس حساس موضوع کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا۔ ان لوک سبھا انتخابات میں سوشیل میڈیا کا بھی ایک اہم کردار رہا ہے۔ 2024 ء کے لوک سبھا انتخابات کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی اس میں سوشیل میڈیا بالخصوص ایک یوٹیوبر دھرو راٹھی کا بھی تذکرہ ہوگا جنہوں نے گزشتہ چند ماہ سے نفرت کی سیاست کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے اور انہیں کروڑوں افراد بالخصوص نوجوانوں کی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ جاریہ انتخابات میں بی جے پی کے زوال کی قیاس آرائیاں محض اندازے نہیں بلکہ خود بی جے پی قائدین بالخصوص وزیراعظم مودی اپنی بوکھلاہٹ سے انہیں درست ثابت کر رہے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم سب کا ساتھ سب کا وکاس اور وکست بھارت کی بات کر رہے تھے لیکن جب پہلے مرحلے میں 102 حلقوں پر رائے دہی کے رجحان کا انہیں اندازہ ہوا، ان کا لب و لہجہ بدل گیا اور انہوں نے منگل سوتر، مغل، مٹن، مسلمان، مندر پر بلڈوزر اور تالے اور مُجرا جیسی باتیں شروع کر دیں۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہندو، مسلم سیاست سے بیزار آچکا ہے اور اپنے حقیقی مسائل مثلاً بیروزگاری اور مہنگائی کی یکسوئی چاہتا ہے۔ گزشتہ سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات کے بعد ملک میں جو ماحول تھا اس میں کوئی بھی سوچ بھی نہیں سکتا کہ چند ماہ بعد بی جے پی کا زوال ہوسکتا ہے۔ لیکن اب آثار بتا رہے ہیں کہ ایسا ہو رہا ہے۔ اگر واقعی یہ اندازے درست ثابت ہوئے تو 2024 ء کے انتخابات ملک کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے اور رائے دہندوں کے سر یہ سہرا باندھا جائے گا کہ انہوں نے ملک کو ڈکٹیٹرشپ سے بچا لیا ہے اور ملک میں ایک نئی صبح لائی ہے۔
