برقی شعبہ میں بی آر ایس دور حکومت میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات، کے سی آر کو نوٹس

سابق بی آر ایس حکومت کے دور میں برقی شعبہ میں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کررہے انکوائری کمیشن نے سابق چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ اور دیگر کئی قائدین کو نوٹس جاری کی ہے اور اپنی تحقیقات کے ایک حصہ کے طور پر اُن سے جواب مانگا ہے۔ کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس ایل نرسمہا ریڈی نے آج یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ کمیشن نے 25 عہدیداروں اور غیر عہدیداروں کی نشاندہی کی ہے، جنہوں نے فیصلے لئے تھے۔ اُن کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ راؤ نے جواب داخل کرنے کے لئے جولائی کے اواخر تک وقت مانگا ہے، لیکن کمیشن نے اُن سے کہا ہے کہ وہ 15 / جون تک جواب داخل کرے کیو ں کہ اُس کے پاس محدود وقت ہے۔کابینی اجلاس کے بعد جاریہ سال مارچ میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی وزیر پی سرینواس ریڈی نے کہا تھا کہ ریٹائرڈ جسٹس ایل نرسمہا ریڈی‘ بھدرا دری اور یادادری پاور پلانٹس میں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے سربراہ ہوں گے۔ اُن تحقیقات میں گزشتہ بی آر ایس حکومت کے دور میں چھتیس گڑھ حکومت سے برقی خریدی کا بھی احاطہ کیا جائے گا۔ تحقیقات کی مدت 100 دن ہوگی۔
