برقی صارف کو21کروڑ روپے کا بل جاری، محکمہ برقی نشانہ تنقید

ناگرکرنول ضلع کے خانہ پور گاؤں میں محکمہ برقی کے عہدیداروں نے ایک صارف کو 21 کروڑ روپے سے زیادہ کا بل جاری کیا ہے۔ ایک طرف ریاستی حکومت غریبوں کو 200 یونٹ تک برقی مفت فراہم کر رہی ہے، تو دوسری طرف محکمہ بجلی پر بڑے بڑے بلس جاری کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ صارفین نے کئی مقامات پر میٹر ریڈنگ میں غلطیوں کی شکایت کی ہے۔ اب تک جھونپڑیوں میں رہنے والے عوام کو کئی لاکھ روپے پر مشتمل بجلی کے بلس جاری کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ناگرکرنول ضلع کے خانہ پور گاؤں کے ایک صارف کا مئی کے مہینے کا 21 کروڑ روپے سے زیادہ کا بل وصول کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ محکمہ برقی کے اہلکاروں نے 5 جون کو خانہ پور گاؤں میں ویما ریڈی کے گھر سے میٹر ریڈنگ لی اور اسے 21.47 کروڑ روپے کا بل حوالہ کیا۔ حیران ویماریڈی نے یہ معاملہ بجلی محکمہ کے افسران کے نوٹس میں لایا۔ عہدیداروں کے مطابق میٹر ریڈنگ لینے والے شخص کو بظاہریہ نہیں معلوم تھا کہ ریڈنگ کیسے لی جائے اس نے 1970 سے ویماریڈی کے ذریعہ استعمال کی گئی بجلی کا حساب لگایا اور اس سے وصول کئے جانے والے ماہانہ بجلی کے چارجز 21 47 48,569 روپئے مقرر کئے۔ اس نے 15 جنوری 1970 سے 5 جون 2024 تک بل جاری کیا۔ صارفین کی جانب سے بلوں میں ایسی واضح غلطیوں کا ذمہ دار محکمہ بجلی کو قرار دیتے ہیں جو سرکاری لائن مینوں کی خدمات استعمال کرنے کے بجائے پرائیویٹ افراد کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ اسسٹنٹ انجینئر مہیش نے اعتراف کیا کہ یہ بل ویماریڈی کو دیا گیا تھا اور اس سے کہا گیا تھا کہ وہ بجلی کی مد میں 21.47 کروڑ روپے کی بھاری رقم ادا کریں۔ تاہم اہلکار نے کہا کہ بل میں خرابی کو جلد ہی دور کر دیا جائے گا۔ محکمہ بجلی کی طرف سے بجلی کے میٹروں کو پڑھنے اور بلوں کی تیاری کے لیے رکھے گئے پرائیویٹ فرد کی طرف سے جس بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا اس کی تمام گوشوں کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے۔
