Qurbani-Final

حق سبحانہ وتعالی نے ’’سورۃ الکوثر؍۲‘‘ میں اپنی بے پناہ نوازشات اوراپنے بے کراں انعامات وعنایات کا ذکر فرماکر ارشاد فرمایا:فصل لربک وا نحر’’ اے حبیب! (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے رب کیلئے نماز پڑھیے اورقربانی دیجئے‘‘۔ نمازاوردیگرساری عبادات بدنیہ اورمالیہ کی طرح قربانی بھی صرف ایک الہ واحدکےلئے ہو، معبودان باطل کے نام پر کی جانے والی قربانیوں کی اس کے ذریعہ بیخ کنی کی گئی ہے۔ نمازجسمانی عبادات میں مہتم بالشان عبادت ہے اورقربانی کا تعلق مالی عبادت سے ہے،مالی عبادات میں قربانی کو اس اعتبارسے اہمیت حاصل ہے کہ یہ حضرت سیدنا ابراہیم وحضرت سیدنا اسماعیل علیہما السلام کے عظیم واقعہ قربانی کی یادگارہے،اللہ سبحانہ کوچونکہ امتحان مقصودتھااوروہ دونوں اللہ کے محبوب بندے اس عظیم امتحان میں کامیاب ہوئے، ارشاد باری ہوا ’’اے ابراہیم آپ نے اپنے خواب کوسچ کر دکھایا ، بے شک ہم نیکی واحسان کرنے والوں کواسی طرح کی جزاء دیتے ہیں،درحقیقت یہ ایک کھلا امتحان تھا اورہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دیدیا‘‘ (الصافات: ۱۰۵-۱۰۷) یہ بڑا ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جواللہ تعالی نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کی وساطت سے جنت سے بھیجاتھاجوفرزندجلیل حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے بدلہ میں ذبح ہو گیا پھریہی سنت ابراہیمی تاقیام قیامت قرب الہی وخوشنودی خداوندی کے حصول کا ذریعہ بن گئی۔ چنانچہ ایمان والے اللہ سبحانہ کے نام پرمحض اسکی رضا وخوشنودی کیلئے ایام قربانی میں جانورذبح کرتے ہیںجبکہ اہل باطل کی قربانیاں بزعم خود معبودان باطل کی خوشنودی کیلئے ہوتی ہیں۔اسلام میں قربانی کا یہ شعارعقیدئہ توحیدباری کا علمبردارہے جو معبودان باطل کیلئے کی جانے والی قربانیوں کے خلاف گویا ایک عملی جہادہے،قرآن کریم کی بعض آیات میں نماز کے ساتھ زکوۃ کا حکم ہے لیکن یہاں نماز کے ساتھ قربانی کا ذکر فرمایا گیاہے۔زکوۃ بھی مالی عبادت ہے جس سے محروم انسانیت مستفیدہوتی ہے،اس حکم کی تعمیل سے اولا مقصوداللہ سبحانہ کی رضاوخوشنودی مطلوب ہے،ثانیااس سے معاشرہ کی صلاح وفلاح وابستہ ہے۔ظاہرہے قربانی بھی ایک ایسی مالی عبادت ہے جس سے محروم انسانوں کونفع پہنچتا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس سے مشرکانہ رسوم ورواجات کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ اللہ سبحانہ کے ہاں اعمال کی قبولیت کا دارومدار اخلاص نیت پر ہے اسی لئے فرمایا گیا’’اللہ سبحانہ وتعالی کونہ توتمہاری قربانیوں کاگوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون لیکن اس کے حضورپہنچنے والی چیزتمہاراتقوی ہے‘‘(الحج:۳۷)اللہ سبحانہ کی بارگاہ عالی وقارمیں ظاہرکا اعتبار نہیں بلکہ اہمیت واعتبارکمال درجہ احساسات بندگی و جذبات شکرگزاری کوحاصل ہے، قربانی ہی کی طرح تمام عبادات کی روح اورجان تقوی یعنی اخلاص نیت ہے، یقیناً اللہ سبحانہ کی رضاء وخوشنودی کیلئے اس کے احکامات کی بجا آوری ہی اصلِ بندگی ہے ارشادباری ہے’’بے شک میری نماز اورمیری قربانیاں اورمیرا مرنا اورجینا سب اللہ سبحانہ کیلئے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے‘‘ (الانعام:۱۶۳) النسك في هذه الآية جميع أعمال البر والطاعات (قرطبی: ۷؍۱۵۲)۔ اللہ سبحانہ کی رضاجوئی اسلام کاما حصل اورتوحید کی روح ہے جس سے اعمال میں جان پیداہوتی ہے،عبدیت وبندگی کا حقیقی جوہر اپنے خالق ومالک کی آگے سرافگندگی یعنی عاجزی ، اِنکساری ، فروتنی و اطاعت ہے۔ اس آیت پاک میں ’’نسکی‘‘سے مراد قربانی بھی ہے،ارشادباری ہے’’اورہرامت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وہ ان چوپائے جانوروں پراللہ کانام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں،سمجھ لوکہ تم سب کا معبودبرحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہوجائو عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنادیجئے‘‘(الحج؍۳۴)۔اس آیت پاک میں ’’منسک‘‘سین کے فتحہ کے ساتھ اسکے معنی ذبح کرنے اورخون بہانے کے ہیں ’’والمنسك الذبح وإراقة الدم‘‘ (قرطبی۱۲؍۵۸)۔ ’’نُسُکٌ‘‘ اس کی جمع ہے۔ ’’منسک‘‘سین کےکسرہ یا فتحہ کے ساتھ اسم ظرف ہے اس کے معنی ’’موضع نحر‘‘ذبح کرنے کی جگہ یا ’’موضع عبادت‘‘ یعنی عبادت کی جگہ ۔ قربانی کے ساتھ مناسک حج اداکئے جانےکے مقامات،مکہ،عرفات،مزدلفہ،منیٰ وغیرہ کے ہیں لیکن ’’نسک ‘‘ وسیع تر معنی میں عبادات خواہ وہ بدنی ہوں کہ مالی،اعمال زندگی ،معاشرت ومعاملات سے متعلق حقوق وفرائض کے ساتھ موت وحیات سے متعلقہ سارے احکام یہاں تک کہ اسلامی نظام حیات کی ساری زندگی میں جلوہ گری کوشامل ہے۔یہ سب کے سب اللہ رب العالمین کیلئے ہوں اور وہ اس کے احکامات کی کامل اتباع وپیروی میں ہوں، ظاہرہے جو کام اس ذات وحدہ لاشریک لہ کی خوشنودی کیلئے ہوں گے وہی بارگاہ الٰہی میں سندقبولیت حاصل کریں گے۔ ’’نحر ‘‘کے اصل معنی اونٹ کے حلقوم میں نیزہ یا چھری مارکر ذبح کرنے کے ہیں جبکہ اورجانوروں کو زمین پر لٹاکر ذبح کیا جاتاہے ،لیکن یہاں’’ نحر ‘‘سے مطلق قربانی مراد لی گئی ہے۔اسکے علاوہ بطورصدقہ جانوروں کو قربان کرنا عید الاضحی اوربزمانہ حج منی ٰ یا حدود حرم میں حجاج کرام کا قربانی دینا وغیرہ سب نحر میں شامل ہے۔ جیسا کہ ذکر ہوچکا قربانی سیدنا ابراہیم خلیل اللہ وسیدنا اسماعیل ذبیح اللہ علیہما السلام کی حیات مبارکہ سے جڑاہوا ایک بے نظیرو بے مثال واقعہ ہے جس کی تابندہ مثال تاریخ عالم میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی، چہیتے فرزندنورنظرولخت جگرکی قربانی کی ایک ایسی عظیم الشان یادگار ہے جورہتی دنیا تک جاری وساری رہے گی جس سے ہردو محبوبان بارگاہ ایزدی کا تذکرہ ہمیشہ تازہ رہے گا۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک موقع پر عرض کیا :یا رسو ل اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ قربانیاں کیا ہیں؟آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہی سنۃ ابیکم ابراہیم’’یہ تمہارے والد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں‘‘عرض کیا یارسول اللہ !ان میں ہمارے لیے کیا( اجروثواب) ہے؟ فرمایاہربال کے بدلے ایک نیکی ہے ،عرض کیا ”اور اُون میں“(یعنی دنبہ کےبالوں میںجس کو اون کہتے ہیںاوروہ بکثرت ہوتے ہیں)؟ فرمایا اس کے ہرہربال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے‘‘(ابن ماجہ ۹؍۴۱۴) اس لئے اقطاع عالم میں جہاں جہاں مسلمان رہتے بستے ہیں عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کرکے اس عظیم سنت کی یاد تازہ کرتے ہیں،فقہاء احناف کی تحقیق یہ ہے کہ قربانی ہر اس مسلمان پر واجب ہے جومقیم ہواور ایام نحرمیں غنی یعنی مال نصاب کا مالک ہو۔وجوب قربانی کے لئے صدقہ فطر کی طرح قربانی کے دنوں میں مال نصاب کا پایا جانا کافی ہے ،وجوب زکوۃ کی طرح مال نصاب پر سال کا گزرنا شرط نہیں ’’وانما تجب علی حر مسلم مقیم موسر(مجمع الانہر: ۴؍۱۶۶) (درمختار مع الشامی ۹؍۴۵۲) شوافع وحنابلہ کے ہاں گوکہ قربانی سنت مؤکدہ ہے۔لیکن ائمہ ثلاثہ کی تحقیق میں قربانی گوکہ سنت ہے جوسنت مؤکدہ کا درجہ رکھتی ہے(بدایۃ المجتہد: ۱؍۴۲۹) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں قربانی سنت ہے ،اس کے ترک کرنے کومیں پسندنہیں کرتا۔ قربانی ایک اہم ترین عبادت ہے اوراسلام کے شعائر میں ایک عظیم شعارہے،صاحب حیثیت اگرایام نحرمیں قربانی ادا نہ کرے تو اس پر سخت وعید وارد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ناراضگی اس طرح ظاہر فرمائی ہے کہ وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے(رواہ الحاکم ۲؍۳۸۹)۔اس عظیم عمل کوعیدالاضحی اورایا م قربانی میں اداکئے جانے والے اعمال میںسب سے زیادہ پسندیدہ قراردیا گیاہے،حدیث پاک میں وارد ہے ’’اِبن آدم (اِنسان) نے قربانی کے دِن کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو اللہ سبحانہ کے ہاں خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ ہو، اور قیامت کے دِن وہ ذبح کیا ہوا جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اورقربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ سبحانہ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے، لہٰذا تم اس کی وجہ سے (قربانی کرکے) اپنے دِلوں کو خوش کرو‘‘ یعنی اس سے اجر و ثواب کی امید کرو‘‘ (ترمذی: ۶؍۱۱۲) اس لئے ایام نحر میں قربانی کرنا اوراورنیکیوں سے بڑی نیکی ہے اور دیگر عبادات واعمال سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ایام نحرمیں قربانی کی اہمیت کی وجہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودنبوں کی قربانی دی جو دراز سینگ والے اورابلق یعنی سیاہ وسفیدرنگ کے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ واللہ اکبرکہہ کر اپنے دست مبارک سے ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ ذبح فرمایابوقت ذبح اللہ کا نام لیا اور تکبیر بیان فرمائی ،روایت میں یہ بھی مذکورہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دنبہ اپنی طرف سے ذبح فرمایا اوردوسرا دنبہ ان افراد امت کی طرف سے( ذبح فرمایا) جو قربانی دینے کی استطاعت نہیں رکھتےاورجنہوں نے توحید کی شہادت دی اور میری رسالت اورپیام رسالت پہنچانے کی گواہی دی‘‘ (بیہقی: ۱۸۸۲۷) سیدنامحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عمل سے یہ بات واضح ہے کہ واجب قربانیوں کے علاوہ نفل قربانی بھی کی جاسکتی ہے، ماہ ذی الحجہ شروع ہونے سےقبل ذرائع ابلاغ (سوشیل میڈیا) کے ذریعہ یہ بات بڑے زور و شور سے پھیلائی جاتی ہے کہ مرحومین کی طرف سےنفل قربانی نہیں دی جاسکتی ظاہرہے یہ بات درست نہیں ،مرحومین کےایصال ثواب کے لیے قربانی کرنا جائز اورموجب اجروثواب ہے ، بڑے جانور میں واجب قربانی کے حصے ہوں تو اُس میں نفلی قربانی کا بھی حصہ لیا جاسکتا ہے اورمرحومین کی طرف سے قربانی مستقلا بھی کی جاسکتی ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ نفلی قربانی اپنی طرف سے کی جائے اور اُس کا ثواب مرحومین کو پہنچا دیا جائے، چنانچہ سیدنامحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے قربانی کرنے کے علاوہ امت کے افراد کی طرف سے بھی قربانی کیا کرتے تھے(بیہقی ۲۶۸؍۹)۔اس قربانی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ افراد کے لئے خاص نہیں کیا کرتے تھے، قربانی چونکہ صدقہ کی ایک قسم ہے ،کتاب وسنت کی روشنی میں صدقہ میت کی طرف سے کیا جاسکتا ہے جوبات کتاب وسنت سےثابت ہواس میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔ حدیث پاک میں مذکورالفاظ ’’بسم اللہ واللہ اکبر‘‘سے بوقت ذبح اللہ کا نام لینا یعنی بسم اللہ کہنا عند الاحناف شرط ہے اورتکبیر یعنی’’واللہ اکبر‘‘کہنا تمام علماء کے نزدیک مستحب ہے۔ حدیث پاک میں وارد ان الفاظ کی وجہ تسمیہ یعنی بسم اللہ کہنے کے بعد کلمات تکبیر کو ’’واو‘‘کے ساتھ یعنی ’’واللہ اکبر‘‘ کہنا افضل ہے۔ بکری، اونٹ اور گائے وغیرہ کی قربانی درست ہے، بکری کی صنف میں بھیڑ، دنبہ اور میڈھا وغیرہ۔ گائے کی صنف میں بیل،بچھڑا ،بھینس وغیر ہ خواہ وہ مذکرہوں یا مؤنث سب شامل ہیں(تبیین الحقائق: ۶؍۴۸۳) گائے کی قربانی شرعا جائز ہے اس پر پابندی لگتی ہے تو ظلم ہے لیکن فتنہ کا اندیشہ ہوتوگائے کی قربانی سے احتراز کیاجانا قرین مصلحت ہے کیونکہ شرکی طرف لیجا نے والاہرعمل بھی شرہے ’’ما یؤدی الی الشر شر‘‘ (روح المعانی ۷؍۲۲۵) چھوٹے جانوربکرا،بکری وغیرہ کی صرف ایک فرد کی طرف سے قربانی دی جاسکتی ہے، بڑے جانورجیسے اونٹ،گائے ،بیل وغیرہ میں قربانی کے سات حصے رکھے جاسکتے ہیں البتہ قربانی کے تمام سات شرکاء عبادت وتقرب جیسے قربانی ،ولیمہ یا عقیقہ کی نیت سے شریک ہوں ، اگرکوئی ایک شریک بھی کسی اورغرض سے شریک ہوتو تمام شرکاء کی قربانی درست نہیں ہوگی (ملتقی الابحر۴؍۱۶۷-۱۶۸)۔ تمام شرکاء کے درمیان جبکہ وہ اپنا مکمل حصہ لینا چاہتے ہوں تمام حصہ داروں کے درمیان گوشت کے حصوں کی تقسیم منصفانہ طورپر تول کر کی جانا ضروری ہے ،اگرتمام شرکاء کمی زیادتی پر رضامند ہوں تو اندازہ سے بھی حصے بنائے جاسکتے ہیں (حوالہ سابق) البتہ بڑے جانورمیں کسی نے نذرکی قربانی کی نیت سے شرکت کی ہوتواسکا حصہ تول کر دیا جانا ضروری ہے کیونکہ نذرکی قربانی کے گوشت کا استعمال نہ شریک کیلئے جائز ہے اورنہ کسی مالدار کیلئے، چونکہ نذرکے گوشت کے صرف فقراء مستحق ہیں (تاتارخانیہ: ۱۷؍۴۱۵) بڑے جانورمیں شریک سات شرکاء متعین ہوں تو بوقت ذبح ان میں سے ہر ایک کا نام لینا ضروری نہیں بلکہ مطلق ذبح کردینے سے ان سب کی قربانی اداہوجائے گی (الاشباہ والنظائر:۴۰)قربانی کے جانورکا عیب ونقص سے پاک ہونا ضروری ہے ،سینگ وغیرہ ٹوٹ گئی ہو اوراسکا اثردماغ تک پہنچ گیا ہو یا اکثرسینگ ٹوٹ گئی ہو تو اسکی قربانی درست نہیں ورنہ درست ہے ،پیدائشی طورپر سینگ نہ ہوں تب بھی قربانی جائز ہے ،کان کا اکثرحصہ کٹ گیا ہو تو قربانی درست نہیں ورنہ درست ہے ۔ پیدائشی طورپر جس جانورکے کان نہ ہوں ،آنکھ کی بینائی بالکل نہ ہو یا اکثر زائل ہوگئی ہو یا جس جانورکے دانت بالکل نہ ہوں یا اکثر ٹوٹ چکے ہوں ،زبان کٹے ہوئے جانورجوچارہ چرنے پر قادر نہ ہوں ،دم کٹے جانورجبکہ دم کااکثرحصہ کٹا ہوا ہو اسی طرح جو جانوربالکل لنگڑا ہویا تین پیرزمین پر رکھ سکتا ہو اور چوتھا پاؤں زمین پر بالکل نہ ٹیک سکتا ہو تو ان تمام کی قربانی شرعاً جائز نہیں (شامی،کتاب الاضحیۃ) خصی جانورکی قربانی افضل ہے کیونکہ اسکا گوشت اچھا اورلذیذہوتا ہے (ہندیہ: ۵؍۲۹۹) قربانی کے تین دن ہیں :دس(۱۰)گیارہ(۱۱) اور بارہ (۱۲) ذی الحجہ،دس ذی الحجہ کو صبح صادق سے اسکا وقت شروع ہوجاتاہے اوربارہ ذی الحجہ غروب آفتاب سے قبل تک رہتا ہے (ملتقی الابحر:۴؍۱۶۹) اس سے قبل یا اسکے بعد قربانی کی جائے تو شرعا معتبرنہیں(ہندیہ۵؍۲۹۵)لیکن دس ذی الحجہ کا دن قربانی کیلئے زیادہ افضل ہے ،اسکے بعد گیارہ اوربارہ ذی الحجہ کی فضیلت ہے (مجمع الانہر:۴؍۱۷۰) دس اورگیارہ ذی الحجہ کے بعد والی رات میں قربانی کی جاسکتی ہے لیکن رات کے وقت روشنی کی کمی کی وجہ مکروہ ہے کہ تاریکی کی وجہ سنت کے مطابق ذبح میں کوئی نقص نہ رہ جائے(بدائع الصنائع: ۴؍۲۲۳) شہروں میں نماز عیدکی ادائیگی سے قبل قربانی درست نہیں، ہاں! البتہ شہر میں کسی ایک جگہ نماز عید ادا ہوگئی ہو توشہریوں کیلئے قربانی کرنا جائز ہے گوکہ انہوں نے نماز عید ادانہ کی ہو،تاہم دیہاتوں اورقریوں میں رہنے والوں کیلئے یہ شرط نہیں ہے کیونکہ دیہات اورقریہ میں نماز عیدکا قائم کرنا واجب نہیں اسلئے وہ اگرصبح صادق کے بعد قربانی کرلیتے ہیں تو شرعا درست ہے البتہ سورج طلوع ہونے کے بعد اگر وہ قربانی کریں تو افضل ہے کیونکہ ان کے لئے یہ وقت مستحب ہے (ہندیہ: ۵؍۲۹۵) تاہم عدم وجوب کے باوجود وہ (دیہاتی) نماز عید کا اہتمام کریں تو پھر ان کو بھی نماز عید کے بعد ہی قربانی کرناچاہیے، نا بالغ یا مجنون اگرچہ وہ مال دار ہی کیوں نہ ہوں ان پر اوران کے اولیاء پرانکی طرف سے قربانی واجب نہیں البتہ نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی دی جائے تو مستحب ہے(شامی:۹؍۴۵۸) ۔ ریاء اوردکھاواسے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں، اور اعمال کی طرح قربانی میں بھی اخلاص نیت کی بڑی اہمیت ہے، محض دکھاوے،شہرت اورناموری کیلئے زیادہ قیمت کے فربہ جانورخریدے جائیں اوراس پر تفاخر کیا جائے تو یہ روح قربانی کے منافی ہے۔ارشاد باری ہے’’اللہ سبحانہ کو نہ تو قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے نہ انکا خون لیکن اس تک پہنچنے والی چیز تمہارے دل کا تقویٰ اور پرہیزگاری ہے‘‘ (الحج: ۳۷) اس لئے قربانی کا عمل خالص اللہ کی رضا کیلئے ہو ،چونکہ ریاء ودکھاوے سے کیا جانے والا عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں، تقوی ہی شرف قبولیت کا معیارہے ۔اس وقت مشاہدہ یہ ہے کہ مسلم سماج کےبعض گوشوں میں ’’ریا،دکھاوا‘‘کامرض عام ہے،اکثروہ اصحاب جواسلام کےبنیادی احکام واعمال سےکم واقف ہیں سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کا جذبہ بھی مفقود ہے وہ بہت زیادہ تروتازہ قربانی کاجانورخریدتےہیں اوراس کی نمائش بھی کرتے ہیں،بسااوقات جانور اتنا معمر ہوتا ہے کہ اس کاگوشت کھانے کےقابل نہیں رہتا،ظاہرہے قربانی کااہم مقصودتورضائےالہی ہےلیکن دوسراایک اورمقصودان قربانیوں کے گوشت کوکھانااوردوسروں کوکھلانابھی ہے ارشاد باری ’’ان قربانیوں سے تم بھی کھائواورمصیبت زدہ محتاجوں کو بھی کھلائو‘‘ (الحج؍۲۸) ’’ان (قربانیوں کے گوشت) سے تم بھی کھائواورسوال سے بچنے والے مساکین اورسوال کرنے والوں کو بھی کھلائو ‘‘(الحج؍۳۶)۔ظاہرہے کھانے اورکھلانے کے اس ارشادباری کی پابندی بھی رضائےالہی کی طلب کے ساتھ ہو،یہ بھی شرعا مطلوب ہے ۔ اس لئے اسلام نے قربانی کے جانوروں کی عمر مقرر کردی ہے، اونٹ کم از کم پانچ سال کاہو ،گائے،بیل،بھینس وغیرہ ہوں توان کی عمرکم از کم دوسال کی ہو،بکرا،بکری یا میڈھا، میڈھی ،دنبہ وغیرہ ہوں توکم ازکم ایک سال کے ہوں ، البتہ بھیڑیا دنبہ ایک سال سے کم کا ہو یعنی چھ ماہ یا آٹھ ماہ کاہو اور وہ اتنا فربہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہے تو اس کی قربانی بھی درست ہے (ردالمحتار۲۶؍۲۴۰)۔الغرض حضرت سیدنا ابراہیم وحضرت سیدنااسماعیل علیہما السلام اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام خاص طورپرحضرت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اطہاراورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم حسب منصب امتحان و آزمائش کی منزلوں سے گزارے گئے ہیںاوروہ سب کے سب رضائے الٰہی کےلئےہمیشہ تسلیم ورضاکاپیکربنےرہے ہیں۔ مسلمانوں کےلئےاس میں ایک عظیم پیغام ہے کہ وہ بھی ’’سرتسلیم خم ہے جومزاج یارمیں آئے‘‘کے مصداق نفسانی خواہشات کوقربان کرکےاللہ سبحانہ کی رضاوخوشنودی کی طلب وتڑپ میں زندگی کاسفرطئےکریں۔حق سبحانہ سے دعاکہ اللہ سبحانہ ہم سب کو’’بے شک میری نماز اورمیری قربانیاں اورمیرا مرنا اورجینا سب اللہ سبحانہ کیلئے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے‘‘(الانعام ؍۱۶۳)کی حقیقی روح کاامین وپاسبان بنائے۔آمین۔.