شہید مسجد دوبارہ تعمیر کی جائے گی: صدرنشین وقف بورڈ

Chilkur-Moinabad

صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ سید عظمت اللہ حسینی نے کہا کہ معین آباد میں چلکور کے مقام پر شہید مسجد کے مقام پر وقف بورڈ کی جانب سے بہت جلد مسجد دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔ یہ اراضی وقف بورڈ میں درج رجسٹر ہے۔ رئیل اسٹیٹ سے وابستہ ایک شرپسند نے اس قدیم مسجد کو شہید کردیا۔ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ہے۔ سید عظمت اللہ حسینی نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس مسجد کی اراضی کا ریکارڈ محکمہ مال اور وقف بورڈ کے پاس 1954ء سے موجود ہے۔ چلکور مندر کے پجاری‘ مقامی ہندوں اور مسلمانوں سے مشاورت کی گئی ہے۔ انہوں نے مسجد کی اراضی کی حد بندی کرنے اور مقامی مسلمانوں کی رضامندی سے مسجد تعمیر کرنے پر کوئی اعتراض نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی اراضی 4 گنٹے پر مشتمل ہے۔ اس کا سروے نمبر 133 ہے۔انہوں نے کہا کہ مسجد کو جانے کے لئے راستہ بھی نہیں ہے۔ وہ مسجد کے لئے راستہ حاصل کرنے پر توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بونال تہوار کے باعث مسجد کے تعمیری کاموں کو روک دیا گیا ہے۔ چلکور میں مقامی ہندؤں اور مسلمان مل جل کر رہتے ہیں۔ اس علاقہ کی گنگا جمنا تہذیب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ہندوں اور مسلمانوں نے ان سے درخواست کی کہ وہ چند یوم تک مسجد کی تعمیر کا کام مؤخر کردیں۔ ان کی اس اپیل پر عارضی طور پر تعمیری کاموں کو روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے دور حکومت میں وقف بورڈ کے ریکارڈ روم کو تالا ڈال دیا تھا وہ کلکٹر سے ملاقات کرکے اس ریکارڈ روم کا تالا کھلوانے اور اس کے حفاظت کی ذمہ داری وقف بورڈ کو حوالے کرنے کے لئے توجہ دلائیں گے۔ اس سلسلہ میں جلد اقدامات کئے جائیں گے۔