جینور فرقہ وارانہ تشدد کے بعد مسلمانوں اور قبائلی افراد کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ کو ختم کرنے حکومت کی جانب سے اجلاس _ دونوں طبقات کے قائدین شریک

n6323202711727223489728803ab189de8689513e7c8662ee5b244f3124b983e02ac13c8fad6feab7ee59a4

تلنگانہ کے آصف آباد ضلع کے جینور ٹاون میں ایک مسلم آٹو ڈرائیور کی جانب سے قبائلی خاتون کی مبینہ عصمت ریزی کی کوشش اور اس پر قاتلانہ حملہ کے واقعہ کے رونما ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کے مسلمانوں اور قبائلی افراد کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیئے منگل کو ریاستی سیکریٹریٹ میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ قبائلی وزیر سیتااکا اور حکومت کے مشیرمحمد علی شبیر کی جانب سے جینور کے مسلم اور قبائلی نمائندوں کا ایک مشترکہ اجلاس سکریٹریٹ میں منعقدکیاگیا۔ اس اجلاس کے انعقاد کا مقصد حالیہ دنوں جینور میں پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد دونوں طبقات مسلمان اور قبائلیوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات اور دوریوں کو ختم کرنا تھا۔ اس اجلاس میں جینورٹاون اور ضلع آصف آباد سے تعلق رکھنے والے مسلم سیاسی اور مذہبی قائدین کے علاوہ گونڈ قبائلی طبقہ کے قائدین نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں آصف آباد ضلع سے تعلق رکھنے والے خانہ پور کے رکن اسمبلی وی بھجو، رکن کونسل دنڈے وٹھل، سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر ایس وینوگوپال چاری، ماہرتعلیم محبوب عالم خاں اور دوسروں نے شرکت کی۔ 4 ستمبر کو جینور میں پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد مقامی مسلمانوں اور قبائلیوں کے درمیان پیدا ہونے والی ایک دوسرے کے خلاف نفرت کو دور کرنے اوران میں مصالحت پیدا کرنے اور ضلع میں امن قائم کرنے کی کوشش کی گئی