رانی لکشمی بائی کے مجسمے کی تنصیب سے متعلق دائر درخواست کا تصفیہ

دہلی ہائی کورٹ نے عیدگاہ پارک میں جھانسی کی رانی لکشمی بائی کا مجسمہ نصب کرنے سے متعلق دائر درخواست کا تصفیہ کر دیا ہے۔ پیر کو چیف جسٹس منموہن کی سربراہی والی بنچ کو بتایا گیا کہ جھانسی کی رانی کا مجسمہ باو¿نڈری وال بنا کر درست طریقے سے نصب کیا گیا ہے۔ جھانسی کا یہ مجسمہ عیدگاہ کی دیوار سے دو سو میٹر کے فاصلے پر نصب کیا گیا ہے۔ 4 اکتوبر کو ہائی کورٹ نے عیدگاہ مینجمنٹ کمیٹی کو اپنے تین نمائندوں کے ساتھ 5 اکتوبر کو عیدگاہ پارک کا دورہ کرنے کو کہا تھا کہ آیا جھانسی کی رانی کی مورتی کو نصب کرنے کے لیے کوئی متبادل جگہ ہو سکتی ہے۔ سماعت کے دوران ڈی ڈی اے نے کہا تھا کہ ہم سب کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں، اس لیے مجسمہ پارک کے کونے میں نصب کیا گیا ہے اور مجسمے کے گرد دیوار ہے۔ قبل ازیں ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے دہلی ہائی کورٹ کے سنگل جج کے جھانسی کی رانی لکشمی بائی کا مجسمہ عیدگاہ پارک میں نصب کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والے عرضی گزار کی سرزنش کی تھی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے کہا تھا کہ ہم خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کرتے ہیں اور آپ خاتون فائٹر کے مجسمے کی تنصیب پر اعتراض کر رہے ہیں۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ جھانسی کی رانی لکشمی بائی قومی ہیرو ہیں، انہیں مذہبی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے، وہ تمام مذہبی حدود سے بالاتر ہو کر قومی ہیرو ہیں، آپ انہیں مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈویژن بنچ نے کہا تھا کہ درخواست گزار فرقہ وارانہ سیاست کر رہے ہیں اور وہ عدالت کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ شاہی عیدگاہ مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ شاہی عیدگاہ کی اراضی پر تجاوزات پر پابندی لگائی جائے، کیونکہ یہ وقف جائیداد ہے۔ درخواست میں 1970 کے ایک گزٹ نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا گیا تھا، جس میں شاہی عیدگاہ پارک کو ایک قدیم جائیداد بتایا گیا تھا، جو مغل دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور وہاں نماز ادا کی جاتی ہے۔ سنگل بنچ نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ عیدگاہ اور عیدگاہ پارک کی حدود کے ارد گرد کھلا علاقہ ڈی ڈی اے کی ملکیت ہے۔
