موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے متاثرہ اقلیتی خاندانوں کو چھوٹے کاروبار کے آغاز میں مدد

تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے تعلیم یافتہ اقلیتی نوجوانوں کو مختلف اسکیمات سے وابستہ کرتے ہوئے معاشی ترقی اور روزگار کی فراہمی کے اقدامات کا اعلان کیا۔ کارپوریشن کے صدرنشین عبید اللہ کوتوال نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے پہلے اور دوسرے سہ ماہی کے بجٹ کی اجرائی سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن نے سیلف ایمپلائیمنٹ اور ٹریننگ اسکیمات کے تحت تعلیم یافتہ نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار کے آغاز کے لئے سبسیڈی پر مبنی قرض کی فراہمی اور انفارمیشن ٹکنالوجی جیسے اہم شعبہ میں ٹریننگ کا فیصلہ کیا ہے۔ عبیداللہ کوتوال نے بتایا کہ ریونت ریڈی حکومت نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے لئے 432 کروڑ مختص کئے ہیں جبکہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں 336 کروڑ مختص کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے بجٹ کو شفافیت کے ساتھ اسکیمات پر خرچ کرتے ہوئے اقلیتی طبقات کی معاشی صورتحال بہتر بنانا کارپوریشن کی اولین ترجیح ہے ۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 3000 کروڑ مختص کئے ہیں اور بجٹ کی اجرائی کا آغاز ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے اسمبلی انتخابات سے عین قبل کارپوریشن کو 113 کروڑ جاری کرتے ہوئے بی آر ایس کارکنوں کی مدد کی تھی ۔ حکومت نے کارپوریشن کی مختلف اسکیمات کے لئے 432 کروڑ کے منجملہ 104 کروڑ کی فوری اجرائی سے اتفاق کیا ہے ۔ کارپوریشن کی جانب سے حکومت کو ماسٹر پلان پیش کیا گیا جس میں سبسیڈی اسکیم کے علاوہ چھوٹی صنعتوں کے آغاز میں تعاون ، اسکل ڈیولپمنٹ اسکیم اور انفارمیشن ٹکنالوجی اور اکاؤنٹنگ جیسے شعبہ جات میں اقلیتی طلبہ کو ٹریننگ کی فراہمی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر اور اضلاع میں اسکل ڈیولپمنٹ کے تحت کمپیوٹر اور سیل فون ریپیرنگ کی ٹریننگ کا کام جاری ہے ۔ ریاست میں 13 مراکز پر مختلف کورسیس کی تربیت جاری ہے جس میں ٹیلرنگ جیسا اہم شعبہ شامل ہے ۔ عبیداللہ کوتوال نے بتایا کہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے طلبہ کے ڈریس کی سلوائی کا کام کارپوریشن کے تحت چلنے والے مراکز کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ موجودہ 13 مراکز میں اسکول ڈریس کی سلوائی سے تقریباً 800 افراد کو روزگار حاصل ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئے مراکز کے قیام کے لئے کارپوریشن 25 تا 30 لاکھ خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس کی اجازت کے ساتھ شرط رکھی جائے گی کہ کم از کم 70 فیصد امیدواروں کو روزگار سے وابستہ کیا جائے ۔ عبید اللہ کوتوال نے کہا کہ اقلیتوں کی غربت کا خاتمہ اور اسکیمات پر مؤثر عمل آوری ان کی اولین ترجیح ہے ۔ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے متاثرین کو چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلئے امداد کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس سلسلہ میں متاثرہ خاندانوں کے سروے کا کام جاری ہے ۔ ملک پیٹ اسمبلی حلقہ میں 735 ڈبل بیڈروم مکانات فراہم کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی طبقہ سے وابستہ مختلف پیشہ جات سے وابستہ افراد کی نشاندہی کی جارہی ہے جن میں بنکر، پتھر پھوڑنے والے ، ریچھ پالنے والے جیسے پیشہ شامل ہیں۔ بھونگیر ، جگتیال ، کریم نگر ، محبوب نگر اور کھمم اضلاع میں ایسے خاندانوں کی نشاندہی کی جارہی ہے ۔ صدرنشین کارپوریشن کے مطابق 11 نومبر کو یوم اقلیتی بہبود کے موقع پر چیف منسٹر ریونت ریڈی اسکیمات کا اعلان کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو 10,000 سلائی مشینوں کی تقسیم کی منظوری حکومت سے حاصل ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار کے لئے 50,000 روپئے تک سبسیڈی کے علاوہ آٹو رکشا اور سامان منتقل کرنے والی گاڑیوں کی خریدی کیلئے سبسیڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
