اپوزیشن پارلیمنٹ میں اڈانی اور منی پور کا مسئلہ اٹھائے گی، حکومت ہر موضوع پر بحث کے لیے ہے تیار

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے اجلاس سے پہلے تمام جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ بامعنی بات چیت ہوئی اور حکومت ہر موضوع پر بات چیت کے لئے تیار ہے لیکن بات چیت پرامن طریقے سے ہونی چاہئے۔ تاکہ اس کا فائدہ بھی ہو۔ پیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے بلائی گئی اس میٹنگ میں اپوزیشن نے سب سے پہلے صنعت کار گوتم اڈانی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے ساتھ ساتھ منی پور میں تشدد، شمالی ہندوستان میں آلودگی کا مسئلہ اور ریلوے حادثے پر بحث کرانے کی مانگ کی ہے۔ میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسٹر رجیجو نے کہا ”آل پارٹی میٹنگ کافی اچھی طرح سے ہوئی۔ میٹنگ میں مجموعی طور پر 30 سیاسی جماعتوں کے 42 لیڈروں نے شرکت کی۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اچھی تجاویز دی ہیں اور بات چیت بامعنی رہی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لیڈروں نے کچھ مطالبات کیے ہیں اور حکومت نے تمام نکات کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی جانب سے دی گئی تجاویز کو بزنس ایڈوائزری کمیٹی، لوک سبھا کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کے سامنے رکھا جائے گا کہ کن موضوعات پر بحث کی جانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی موضوعات کو سامنے رکھا گیا ہے اور لیڈران کا خیال ہے کہ کچھ موضوعات پر بات ہونی چاہئے۔ پارلیمانی امور کے وزیر نے کہا کہ حکومت کا ماننا ہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مسائل پر اچھی طرح سے بحث ہونی چاہئے۔ ہمیشہ کی طرح حکومت کسی بھی موضوع پر بات کرنے کے لیے تیار ہے، گزارش صرف اتنی ہے کہ ایوان خوش اسلوبی سے چلے۔ اگر کسی بھی موضوع پر امن سے بات کی جائے تو بہت فائدہ ہوگا۔ مسٹر رجیجو نے کہا کہ حکومت کا مقصد اجتماعی جوابدہی کے ذریعے یہ یقینی بنانا ہے کہ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ملک کے ہر شہری کے لیے مثبت نتائج لائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران موثر بحث ہوگی۔
