لبنان میں جنگ بندی سے اسرائیلی حکومت میں اختلاف ،شدت پسند وزیرنے جنگ بندی کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا

لبنان میں جنگ بندی کی امیدوں اور اسرائیلی وزراءکے جنگ بندی مخالفت بیانات کی طرف سے مایوسی کے دوران اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بزلئیل سموٹرچ نے لبنان میں جنگ بندی کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔بین گویر نے آج منگل کواپنے بیانات میں کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے خلاف ووٹ دیں گے۔انتہا پسند وزیر نے کہا کہ حکومت شمالی اسرائیل کے باشندوں کو ان کے گھروں کو واپس کرنے جنگ کا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ دوسری طرف بزلئیل سموٹریچ نے اپنی پارٹی کے ایک اجلاس کے دوران جنگ کو روکنے کے لیے لبنان کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔ اگر اس پر دستخط ہو گئے تو اس کی قیمت ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہوگی۔اس نے غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضہ کرنے اور وہاں فلسطینیوں کی تعداد کو دو سال کے اندر نصف تک کم کرنے کے مطالبے کی تجدید کی۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لبنان کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی منظوری کے لیے اسرائیل کی سیاسی اور سلامتی کی وزارتی کونسل کا اجلاس آج شام ہونے والا ہے۔وائٹ ہاوس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے نقطہ نظر کی تصدیق کے بعد اسرائیلی وزرائ کے بیانات جنگ بندی کے حوالے سے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ جان کربی نے جنگ بندی کے حوالے سے بات کی مگر وہ محتاط نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جب تک سب کچھ طے نہیں ہو جاتا کسی چیز کا اعلان نہیں کیا جائے گا”۔گذشتہ ستمبر سے اسرائیل نے لبنان اور حزب اللہ کے ٹھکانوں پر خاص طور پر جنوب، البقاع اور جنوبی مضافات میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔
