جشن ریختہ کا اختتام ،آخری دن جاوید اختر اور علی فضل بنے توجہ کا مرکز

n6435283451734282291200eb49254ff179da1e221dbca15b6129d38be0428fc979a5d8d2b73c1d1f6e315c

ریختہ فاونڈیشن کے زیر اہتمام نواں جشن ریختہ اتوار کو تین روزہ جشن کے ساتھ اختتام پر پہنچا ۔راجدھانی کے جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں آخری دن ریختہ کے روایتی رنگ نظر آئے ،بہرحال اس بار پھر جشن ریختہ کے ساتھ سوشل میڈیا پر اردو اسکرپٹ پر لفظی جنگ جاری رہی کا کیونکہ ایک بڑا طبقہ ایسا ہےجس کا ماننا ہے کہ ریختہ اردو کے نام پر زبان کی اسکرپٹ کو ختم کررہی ہے ۔ بہرحال اس بحث کے باوجود ریختہ کا بخار کم ہوتا نظر نہیں آیا ہے ۔اس تین روزہ جشن میں بھی اردو شاعری اور ادب کے ساتھ قوالی اور میوزک کا دور چلا ۔ آخری دن اردو شاعری میں قوم پرستی پر جاوید اختر نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ،ان کے ساتھ انیس الرحمان نے گفتگو کی ۔جشن ریختہ کے آخری دن جاوید اختر کی محفل دیاراظہار میں سجی تھی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔