ملک کی 22 ریاستوں میں شدید سردی کا قہر

n6457380501735699489268b52fe5636c5f313aba07719f3785537afaf035f73f8be2abbb481d7739c610c2

نئے سال کا آغاز ہوگیا ہے لیکن نئے سال کے جشن کے دوران لوگوں کو شدید سرد لہر کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جنوری کے پہلے ہفتے میں دو پہاڑوں پر ویسٹرن ڈسٹربینس آنے والے ہیں جس سے کم سے کم درجہ حرارت میں تیزی سے گراوٹ آئے گی۔ اس کے بعد تقریباً ملک کے تین چوتھائی حصے میں سرد ہواؤں کا پھیلاؤ ہو جائے گا۔اس وقت ملک کی تقریباً 22 ریاستیں شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ محکمہ موسمیات نے نئے سال کے پہلے ہفتے میں 7 جنوری تک اور زیادہ سردی ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ الرٹ کے مطابق پہاڑوں پر 2 ویسٹرن ڈسٹربینس فعال ہو رہے ہیں۔ اس کے اثر سے نصف سے زیادہ ملک میں موسم کا مزاج بالکل تبدیل ہو جائے گا۔ دہلی اورپنجاب سے لے کر جموں کشمیر’اتراکھنڈ تک کپکپانے والی ٹھنڈ پڑے گی۔ اس کا اثر تلنگانہ اور مہاراشٹرا میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔موسم سے متعلق ایجنسی اسکائی میٹ کے مطابق ویسٹرن ڈسٹربینس کے آنے کی حالت بن چکی ہے اس سے پہاڑوں پر 3 سے 6 جنوری کے درمیان شدید برفباری ہو سکتی ہے۔ اس کے پہلے تین دنوں تک بارش کے اثر سے شمالی ہند کی ریاستوں کے کم سے کم درجہ حرارت میں گراوٹ آئی ہے۔پنجاب، ہریانہ، دہلی اور اتر پردیش میں کہرے کا اثر بھی رہے گا لیکن ایک دو دنوں میں جیسے ہی ہوا کی رفتار بڑھے گی ویسے ہی کہرا ختم ہو جائے گا۔ موسم صاف ہوگا اور دھوپ نکلے گی۔ اس سے 2 اور 3 جنوری کے درمیان میدانی علاقوں کے اقل ترین درجہ حرارت میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے مگر ویسٹرن ڈسٹربینس کا اثر ہوتے ہی 4تا3 جنوری کی رات سے درجہ حرارت پھر گرنے لگ جائے گا۔ اسی دوران پہاڑیوں کے نچلے علاقوں میں بھی برفباری ہونے لگے گی۔3 سے 6 جنوری کے بیچ ہماچل اور اتراکھنڈ میں بھی برفباری کا امکان ہے۔ کْلو، منالی، شملہ میں بھی شدید برفباری ہو سکتی ہے۔ اس کا اثر نچلے علاقوں جیسے ہری دوار، رشی کیش تک دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں برفباری نہیں لیکن بارش ہو سکتی ہے۔ اگلے ہفتے سے ہواؤں میں ٹھنڈک بڑھنے کی وجہ سے پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش میں رات میں درجہ حرارت مزیدگرنے کے آثار ہیں۔