کوئی کچھ بھی کہےآخر جیتو پٹواری نے کر ہی دی کانگرس کی بیٹری چارج

ابھی سے نہیں بلکہ پچھلے لگ بھگ21 سالوں کے مدھیہ پردیش کانگرس کے سفر پر ایک سرسری نظر ڈالیں۔ اگر آپ ریاست کی سیاست سے ذرا سا بھی قریب ہیں تو آپ کو اس کی قیادت میں کچھ نظر آئے یا نہ نظر آئے ، لیکن آپ دور سے ایک قسم کی بوریت اور مایوسی محسوس کر سکتے ہیں۔ تقریباً دو دہائیاں ہو چکی ہیں، پارٹی قیادت کبھی بھی اپنے کارکنوں کو وہ کرنٹ فراہم نہیں کر سکی جس کی انہیں اشد ضرورت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مختلف سیاسی امتحانات میں کانگریس کو وہی کچھ ملا جس کی وہ حقدار تھی، حالانکہ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگرس نے کسی نہ کسی طرح ریاست میں اپنا جھنڈا لہرا دیا تھا، لیکن اس جیت کو کہیں بھی اس کی جدوجہد کی جیت نہیں سمجھا گیا۔، جبکہ دوسروں نے اسے بی جے پی کی بدانتظامی قرار دیا۔ اب بات کرتے ہیں موجودہ وقت کی، زیادہ نہیں پچھلے دو ماہ کی ٹائم لائن پر نظر ڈالیں، وجئے پور اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں کانگرس کی جیت اور پھر پتھم پور میں یونین کاربائیڈ کے کچرے کو جلانے کے معاملے کو عوامی تحریک میں تبدیل کرنا۔ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دینا،اگر چہ کچھ لوگ جیتو کو نوآموز کہتے ہیں، کچھ اسے حد سے زیادہ پرجوش کہتے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے مخصوص دیسی انداز میں کام کر کے دکھایا ہے کہ وہ چاہے جیسے بھی ہوں، وہ کانگرس کی پچھلی کئی قیادتوں سے بہت بہتر ہیں۔
