پرانے شہر میں میٹرو پراجکٹ کیخلاف مفاد عامہ کی درخواست

n651612965173931558119164b67c68dcf2b37d4f7259b72dc41bb04cf88b80f4d92c5c868ee71559ebf4a2

میٹرو پراجکٹ کے پرانے شہر حیدرآباد میں توسیعی منصوبہ کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ رضاکارانہ تنظیم اے پی ڈبلیو ایف کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ میٹرو پراجکٹ کے کاموں کے نتیجہ میں تاریخی اور ہیرٹیج عمارتوں کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ درخواست میں تلنگانہ کی چیف سکریٹری، پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق، منیجنگ ڈائرکٹر حیدرآباد میٹرو ریل اور چیف ایگزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گذار کا کہنا ہے کہ علاقہ میں موجود بعض تاریخی عمارتوں کو پیش نظر رکھے بغیر ہی تعمیری کاموں کو انجام دیا جارہا ہے۔ درخواست گذار نے تلنگانہ ہیرٹیج ایکٹ 2017 کا حوالہ دیا جس کے تحت تاریخی عمارتوں کا تحفظ کیا جانا چاہیئے۔ مذکورہ قانون کے تحت تاریخی عمارتوں کے تحفظ کی گنجائش ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پرانے شہر میں میٹرو پراجکٹ کی مجوزہ روٹ پر قریب میں تاریخی چارمینار، فلک نما پیالیس، پرانی حویلی اور مغلپورہ گنبدان موجود ہیں۔ میٹرو پراجکٹ کی تعمیر کی صورت میں مذکورہ تاریخی عمارتوں کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ درخواست گذار نے کہا کہ میٹرو پراجکٹ کے ڈیزائن پر ہائی کورٹ یا پھر ماہرین کی کمیٹی سے منظوری کے بعد ہی عمل آوری کی جائے اور اس وقت تک میٹرو کے تعمیری کاموں کو روکنے کی اپیل کی گئی۔ عدالت نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے آئندہ سماعت 17 فروری کو مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ پرانے شہر میں میٹرو پراجکٹ کے توسیعی کاموں کا آغاز ہوچکا ہے اور متاثرین کو معاوضہ کے چیکس کی ادائیگی کے بعد انہدامی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل کی جانب سے تمام متاثرین کو نوٹس دی گئی ہے اور بیشتر متاثرین معاوضہ کی رقم میں مزید اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے جائیدادوں کو حوالے کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ میٹرو ریل حکام نے معاوضہ کی رقم میں اضافہ کرتے ہوئے نئے پیاکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت فی مربع گز 81 ہزار روپئے ادا کئے جارہے ہیں اور کرایہ داروں کو 6 لاکھ روپئے کی ادائیگی کا فیصلہ کیا گیا۔ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست کی یکسوئی پر پراجکٹ کی پیش رفت کا انحصار رہے گا۔