چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مندا کرشنا مادیگا کی ملاقات

n65161296417393153888974e586c0323e8aaf3c6ed43663d6403f38193f27e38a1bc0068d12c558f2ed5a3

تلنگانہ حکومت کی جانب سے ایس سی زمرہ بندی کے حق میں فیصلہ کے بعد ملک میں زمرہ بندی کی تائید میں مہم چلانے والے ایم آر پی ایس کے سربراہ مندا کرشنا مادیگا نے آج چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ان کی قیامگاہ پر ملاقات کی۔ ایم آر پی ایس کے دیگر قائدین کے ہمراہ چیف منسٹر سے ملاقات کے موقع پر وزیر مال پی سرینواس ریڈی، حکومت کے مشیر ڈاکٹر کے کیشوراؤ، سکریٹری اے آئی سی سی سمپت کمار، چیف منسٹر کے مشیر وی نریندر ریڈی اور دیگر قائدین موجود تھے۔ چیف منسٹر نے مندا کرشنا مادیگا کو تہنیت پیش کی اور زمرہ بندی کے حق میں ان کی کامیاب جدوجہد کی ستائش کی۔ مندا کرشنا مادیگا نے ایس سی زمرہ بندی کے وعدہ پر عمل آوری کیلئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے عہد اور مساعی کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں ریاستی حکومت سے مکمل تعاون کریں گے کیونکہ چیف منسٹر نے ان کے بھائی کی طرح ایس سی زمرہ بندی کو سرکاری منظوری دیتے ہوئے ایس سی طبقات کے دیرینہ مطالبہ کی تکمیل کی ہے۔ مندا کرشنا مادیگا نے ایس سی طبقہ کے ذیلی طبقات میں تقسیم سے متعلق چیلنجس کی وضاحت کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت مادیگا طبقہ کو انصاف کی فراہمی کے عہد کی پابند ہے اور کسی سیاسی مقصد براری کے بغیر ہی زمرہ بندی کو منظوری دی گئی۔ چیف منسٹر نے مندا کرشنا مادیگا اور ان کے ساتھیوں کو ریاستی اسمبلی میں زمرہ بندی کے مسئلہ پر مباحث، کابینی سب کمیٹی کی تشکیل اور ایک رکنی جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اسے منظوری دی اور اسمبلی میں بھی زمرہ بندی کے حق میں قرارداد منظور کی گئی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت نے زمرہ بندی پر عمل آوری کیلئے درکار سرکاری اُمور کی تکمیل کی مساعی شروع کی ہے تاکہ کسی بھی قانونی رکاوٹ سے بچا جاسکے۔ مادیگا قائدین نے اسمبلی میں اپوزیشن رکن اسمبلی کی حیثیت سے ایس سی زمرہ بندی کے حق میں قرارداد کیلئے ریونت ریڈی کی مساعی کو یاد کیا۔ چیف منسٹر نے وفد کو مشورہ دیا کہ وہ زمرہ بندی کے سلسلہ میں اگر کوئی مسائل و اعتراضات ہوں تو کابینی سب کمیٹی اور جوڈیشیل کمیشن کو پیش کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ مندا کرشنا مادیگا نے حکومت کو بعض تجاویز پیش کی۔ چیف منسٹر سے ملاقات کے بعد مندا کرشنا مادیگا نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد سب سے پہلے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے زمرہ بندی کی تائید کی اور اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی جس کیلئے وہ اظہار تشکر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذیلی گروپس کے تحفظات کے تعین اور زمرہ جات کو طئے کرنے میں بعض خامیاں ہیں جن سے حکومت کو واقف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذیلی طبقات کے تحت صرف اے، بی اور سی میں تقسیم عمل میں لائی گئی جبکہ ذیلی طبقات کو چار زمرہ جات میں رکھا جانا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے جسٹس شمیم اختر جوڈیشیل کمیشن کی رپورٹ اور سفارشات سے مندا کرشنا مادیگا اور ان کے ساتھیوں کو واقف کرایا۔ چیف منسٹر نے تیقن دیا کہ ایم آر پی ایس قائدین کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ مندا کرشنا مادیگا نے مادیگا طبقہ کو انصاف کی فراہمی کیلئے ریونت ریڈی کی مساعی کی تائید کا یقین دلایا۔ ایم آر پی ایس قائدین ذیلی گروپس کو 1،2،3 میں تقسیم کرنے کے بجائے چار زمرہ جات اے، بی ، سی ، ڈی میں متعین کرنے کی سفارش کی۔