وقف بل، قانون بن جائے تو بھی قانونی جدوجہد جاری رہیگی

وقف ترمیمی بل کو مسترد کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے جمہوری قدروں اور مسلمانوں کے دستوری حقوق کو پامال کرتے ہوئے 14 ترامیم کے ساتھ وقف بل اسپیکر کو پیش کیا تھا، جسے مرکزی حکومت نے آج پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کر دیا ہے۔ ارشد مدنی جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔جمعیۃ علماء ہند کی ورکنگ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس جمعیۃ کے مرکزی دفتر میں جمعیۃ کے صدر مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں موجود تمام ممبران نے موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور یکساں سیول کوڈ اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے، جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی فلسطین پر اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں اور امریکی صدر کی جانب سے فلسطین کو جہنم میں تبدیل کرنے کی دھمکی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر حکومت کو آمریت اور جبر سے چلانا ہے تو جمہوریت کا نعرہ کیوں لگایا جا رہا ہے اور آئین کو کیوں پکارا جا رہا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ افسوسناک حقیقت اب سامنے آئی ہے کہ خود کو سیکولر کہنے والی حکومت میں شامل پارٹیوں نے بھی بزدلی اور خود غرضی کا مظاہرہ کیا ہے۔مولانا مدنی نے اس ترمیمی بل پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم کے ذریعہ حکومت وقف جائدادوں کی حیثیت اور نوعیت کو بدلنا چاہتی ہے تاکہ ان پر قبضہ کر کے وقف کی حیثیت ختم کرنا آسان ہو جائے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پہلے دفعہ 3 کے تحت وقف کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ وقف بورڈ کرتا تھا، لیکن اب یہ اختیار کلکٹر کو دیدیا گیا ہے، اور مزید ترمیم میں کلکٹر کے بجائے کسی اعلیٰ حکومتی افسر کو انکوائری کا حق دیدیا گیا ہے۔ جب تک وہ رپورٹ نہ دے، اس جائداد کو وقف نہیں مانا جائے گا، خواہ اس میں برسوں لگ جائیں۔ اگر خدانخواستہ یہ قانون منظور ہوتا ہے تو جمعیۃ علماء ہند اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی اور اس کے ساتھ ہی جمعیۃ بھی وقف املاک کو بچانے کیلئے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں اور انصاف پسند لوگوں کے ساتھ تمام جمہوری اور آئینی حقوق کا استعمال کرے گی۔انہوں نے اپوزیشن ارکان کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے پارلیمنٹ میں اس بل کی شدت سے مخالفت کی۔اجلاس کے شرکاء نے ملک میں بڑھتی فرقہ واریت، اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک، یکساں سیول کوڈ کے نفاذ، عبادت گاہ ایکٹ کے باوجود مساجد کے خلاف جاری مہم اور فلسطین میں اسرائیلی جارحیت جیسے سلگتے مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اہم فیصلے کیے۔
