پنجاب کے ان 5 اضلاع میں ملے گا سیاحت کو فروغ، اب ان نہروں پر بھی لوگ آسانی سے کر سکیں گے بوٹنگ

n6571691891742727357467d3b1d214572eafb195365cf3937e1d3a1b8b6fd5cf681de017dd476c80fcb7c2

اب آپ کو پنجاب میں بوٹنگ( کشتی رانی ) سے لطف اندوز ہونے کے لیے جموں و کشمیر نہیں جانا پڑے گا۔ ریاستی حکومت جلد ہی پنجاب میں چندی گڑھ کی سکھنا جھیل کی طرح کشتی رانی کی سہولیات شروع کرنے جا رہی ہے۔ اس کے لیے ریاست کی تقریبا 6 بڑی نہروں کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں کشتی رانی کی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی۔ اس منصوبے سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور لوگ آسانی سے کشتی رانی سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ ریاستی آبی وسائل کے محکمے نے اس اسکیم کے لیے ایک فزیبلٹی رپورٹ بھی تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب کے اضلاع روپڑ، ہوشیار پور، فتح گڑھ صاحب، امرتسر اور پٹیالہ میں واقع نہروں پر کشتی رانی کی سہولت شروع کی جائے گی۔ ان میں سرہند کینال، اپر باری دوآب کینال، ننگل کینال اور بِست دوآب کینال جیسی بڑی نہریں شامل ہیں۔ ان نہروں کا پانی آبپاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن اب ان پر کشتی رانی کے منصوبے بھی بنائے جا رہے ہیں۔ سرہند کینال جو دریائے ستلج سے پانی لیتی ہے فیروز پور، مکتسر اور فرید کوٹ اضلاع کو سیراب کرتی ہے اپر باری دوآب کینال دریائے راوی سے نکلتی ہے اور 3 لاکھ ہیکٹر اراضی کو سیراب کرتی ہے۔ ننگل نہر دریائے ستلج سے نکلتی ہے اور پنجاب اور راجستھان میں 7 لاکھ ہیکٹر اراضی کو سیراب کرتی ہے، جبکہ بِست دوآب نہر دریائے ستلج سے نکلتی ہے اور تقریبا 1 لاکھ ہیکٹر اراضی کو سیراب کرتی ہے۔