دہلی ہائی کورٹ کے جج صاحب کے گھر میں ملا 5 -4 بوریوں میں آدھے جلے ہوئے نوٹوں کا ڈھیر

n6571675711742727188343f22584d71070c2c3dd35d0c40fdff1933aea11f02284fa4b0ff79dc90e1cdfe1

سپریم کورٹ نے ہفتہ کی رات دہلی ہائی کورٹ کے جج یشونت ورما کی رہائش گاہ سے بے حساب نقدی کی برآمدگی کا انکشاف کرتے ہوئے ایک رپورٹ کو عام کیا۔ یہ رپورٹ چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی طرف سے شروع کی گئی اندرونی تحقیقات کے بعد جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جسٹس ورما کو کوئی عدالتی کام نہ سونپیں۔ واقعہ کی تفصیلات سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ایک رپورٹ کے مطابق 14 مارچ کو ہولی کی رات آگ بجھانے کے دوران جسٹس ورما کی سرکاری رہائش گاہ کے ایک اسٹور روم سے جلی ہوئی کرنسی ملی تھی۔ دہلی پولیس کمشنر سنجے اروڑہ نے دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یہ اطلاع دی۔ اطلاعات کے مطابق نامعلوم ذرائع سے ملنے والی بے حساب نقدی سٹور روم میں جلی ہوئی ملی جس کے بعد یہ معاملہ موضوع بحث بن گیا۔
جسٹس ورما کی وضاحت
جسٹس ورما نے اس واقعہ سے اپنے تعلق سے انکار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آخری بار جب میں نے وہ جگہ دیکھی تھی تو وہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔ یہ مجھے بدنام کرنے کی سازش لگتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آگ ان کی سرکاری رہائش گاہ کے اسٹاف کوارٹرز کے قریب واقع ایک اسٹور روم میں لگی۔ یہ سٹور روم پرانے گھریلو سامان کو ذخیرہ کرنے کے لیے تھا اور ان کی مرکزی رہائش اس سے الگ تھی۔
واقعہ کے وقت خاندان کی صورتحال
جسٹس ورما اور ان کی اہلیہ مدھیہ پردیش میں تھے جب یہ واقعہ 14 مارچ کو پیش آیا۔ گھر میں صرف اس کی بیٹی اور بوڑھی ماں تھیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے اگلے دن دہلی واپسی کا انتظام کیا۔ آگ لگنے کے وقت ان کے اہل خانہ اور عملہ سبھی محفوظ مقامات پر تھے۔
نقد رقم کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں
جسٹس ورما نے یہ بھی کہا کہ ان کا خاندان تمام مالی لین دین بینکنگ طریقوں جیسے UPI اور کارڈ سے ادائیگی کرتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی اتنی بڑی رقم ملی ہے تو اسے ان کے سامنے کیوں نہیں رکھا گیا اور سرکاری طور پر ضبط کیوں نہیں کیا گیا؟
بات چیت اور معاملے کی مزید تحقیقات
جسٹس ورما نے واقعہ کو مکمل سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس اسٹور روم میں نقدی ملی ہے وہ ان کی مرکزی رہائش گاہ سے الگ ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ کے عدالتی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مزید تفتیش سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔