کیا وزیر اعظم مودی کو مستعفی ہونے کیلئے مجبور کیا جائے گا ؟

ہندستان میں حکومت تبدیل ہونے جارہی ہے یا وزیر اعظم کو مستعفی ہونے مجبور کردیا جائے گا! این ڈی اے میں شامل جماعتیں عوام کے درمیان اپنی ساکھ کو بچانے سرگرم ہو رہی ہیں۔الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے من مانی فیصلوں کے متعلق انکشافات نے ملک کے سیاسی نظام میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ این ڈی اے کی حلیف جماعتیں اپنے مستقبل کے متعلق فکرمند نظر آنے لگی ہیں اور یو پی اے میں شامل جماعتیں اور اپوزیشن جماعتیں اس سنگین مسئلہ کو عوام کے درمیان لے جا کر ’عوامی تحریک‘ شروع کرچکی ہیں۔ گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے معاملہ میں حکومت کے موقف کودیکھتے ہوئے این ڈی اے میں شامل اتحادیوں میں تشویش کی لہر دوڑنے لگی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن پر الزامات کیلئے اپوزیشن جماعتیں اور عوام بھارتیہ جنتاپارٹی کو ذمہ دار قرار دینے لگی ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ این ڈی اے میں شامل جماعتوں کے قائدین نے اب بھارتیہ جنتاپارٹی پر اس بات کا دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے کہ وہ اپوزیشن کے الزامات کا جواب دے اور الیکشن کمیشن کی کارکردگی میں حکومت کے رول کے متعلق الزامات کی صفائی پیش کرے۔ این ڈی اے میں شامل دو بڑی اتحادی طاقتوں تلگودیشم اور جنتادل یونائیٹڈ ہی نہیں بلکہ اب چراغ پاسوان لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) نے بھی اس مسئلہ پر حکومت کو جوابدہ بنانے حکمت عملی تیار کرنی شروع کردی ہے ۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص این ڈی اے اتحاد میں شامل جماعتوں کو اپنی پارٹی کے مستقبل کے متعلق غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ سیاسی جماعتوں کے ذمہ دار الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کو برقرار رکھتے ہوئے عوام میں اپنے وجود کو باقی رکھنے کی جدوجہد میں شامل ہونے کے متعلق غور کرنے لگے ہیں کیونکہ ’انڈین ایکسپریس‘ میں کئے گئے انکشاف کے بعد ملک کے نوجوانوں میں شدید برہمی پیدا ہوچکی ہے بلکہ عوام بھی اب کھل کر ’ووٹ چوری‘ اور الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال کرنے لگے ہیں۔ملک میں برسراقتدار این ڈی اے حکومت تلگو دیشم اور جے ڈی یو کی بیساکھیوں پر ٹکی ہے اور اب ترنمول کانگریس کے منحرف اراکین پارلیمان سے این ڈی اے کو استحکام ملا ہے۔ ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کے دوران اب سیاسی جماعتوں کے سرکردہ قائدین نے بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی اور عوام کی نبض جانچنے کا فیصلہ کیا ہے۔بھارتیہ جنتاپارٹی الیکشن کمیشن پر الزامات اور قائد اپوزیشن کی پریس کانفرنس کا اب تک کوئی مؤثر جواب دینے سے قاصر ہے۔ بی جے پی بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ پر راست الزامات کے باوجود بی جے پی سے جواب نہ دیئے جانے کے متعلق سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ ’انڈین ایکسپریس‘ نے گذشتہ دنوں جو انکشاف کیا تھا وہ محض ’پارٹI‘تھا اور اس کے بعد اس انکشاف پر ردعمل دیا جا رہاہے اور کوئی ’پارٹII‘ جاری نہیں کیاگیا جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انڈین ایکسپریس کے پاس مزید مواد موجود ہے جو کسی بھی وقت شائع ہوسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی کارکردگی سے متعلق انکشافات نے این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں میں جو تشویش پیدا کی ہے اس کے نتیجہ میں وہ بھی عوام کے درمیان پہنچنے میں عار محسوس کرنے لگے ہیں کیونکہ فی الحال اپوزیشن اور عوام بی جے پی اور الیکشن کمیشن سے سوال کر رہے ہیں لیکن اگر این ڈی اے اتحاد میں شامل جماعتیں ملک میں شفاف انتخابات اور الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر خاموشی برقرار رکھتی ہیں تو ان سے بھی ’جمہوریت‘ کی بقاء کے معاملہ میں خاموشی اختیار کرنے کا الزام عائد کرکے سوال شروع ہوجائیں گے ۔ملک میں پیدا حالات اور عوامی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے کہا جارہاہے کہ این ڈی اے میں دراڑ پڑنے کے آثار کے ساتھ بی جے پی قائدین میں بھی بے چینی پیدا ہونے لگی ہے ۔
