چارمینار کے تاجرین اور سیاحوں کی زندگی کو سنگین خطرہ لاحق

TOP_16-6

تاریخی چارمینار کی سیاحت کے لئے پہنچنے والے سیاح یا اس تاریخی عمارت کے دامن میں موجود افراد محفوظ ہیں!چارمینار کے دامن میں کاروبار کرنے والے افراد ہوں یا سیاح جو تفریح کے لئے پہنچتے ہیں ان کی زندگیوں کو سنگین خطرہ لاحق ہے!جی ہاں چارمینار کے دامن میں موجود افراد کے درمیان 300 سے زائد گیاس سیلنڈرس گھومتے رہتے ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں ۔چارمینار سے مدینہ بلڈنگ کے درمیان گھوم کر مکئی فروخت کرنے والی ٹھیلہ بنڈیاں جن میں گیاس سیلنڈر لگے ہوتے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ ہمہ وقت جلتے رہنے والے گیاس سیلنڈر کے چولہے جو کہ چھوٹی سی بنڈی میں نصب ہوتے ہیں اگر اس میں سیلنڈر پھٹ جائے تو ایسی صورت میں شدید جانی نقصان ہونے کا خدشہ ہے ۔ فائر ڈپارٹمنٹ اور محکمہ پولیس کی جانب سے ہوٹلوں ‘ اسکولوں‘ دواخانوں ‘ کے علاوہ رہائشی اور تجارتی کامپلکس کو محفوظ بنانے کے لئے آتش فرو آلات کی تنصیب کے لئے دباؤ ڈالا جاتا ہے لیکن جس بازار میں روزانہ لاکھوں افراد گھومتے ہیں اس اہم ترین بازار اور سیاحوں کو محفوظ بنانے کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ گلزار حوض کے قریب جاریہ سال 18 مئی کو پیش آئے آگ لگنے کے واقعہ میں 17 افراد کی موت کے باوجود چارمینار کے دامن میں چلتے پھرتے گیاس سیلنڈرس کو کاروبار کی اجازت دی جانا انتہائی خطرناک ہے۔مکئی Sweet Corn کی ان ٹھیلہ بنڈیوں میں جلتے ہوئے چولہے میں آگ لگنے کے کئی واقعات کے باوجود یہ کہتے ہوئے انہیں نظرانداز کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے جبکہ ٹھیلہ بنڈی پر کاروبار کرنے والے یہ نوجوان جن میں زیادہ تر کا تعلق بہار اور اترپردیش سے ہے وہ یومیہ مزدوری کے اساس پر کام کرنے والے ہیں جبکہ ان ٹھیلہ بنڈیوں کا ٹھیکہ جملہ 4 افراد کے پاس ہے جن میں شہران ہوٹل کے قریب‘ منڈی میر عالم کے علاوہ خلوت کے پاس موجود گوداموں سے منظم انداز میں یہ کاروبار چلایاجاتا ہے بلکہ ٹھیلہ بنڈی پر کاروبار کرنے والے ان نوجوانوں کو بندھوا مزدور کے طور پر ان عناصر کی جانب سے استعمال کرتے ہوئے انتہائی خطرناک اشیاء کے ساتھ انہیں پر ہجوم بازاروں کے درمیان چھوڑا جانے لگا ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ مکئی کیلو کے حساب سے ٹھیلہ بنڈیوں کو حوالہ کرتے ہوئے پیشگی رقومات وصول کرلی جاتی ہیں اور ان ٹھیلہ بنڈی رانوں کو گیاس سیلنڈر حوالہ کرتے ہوئے روانہ کردیا جاتا ہے اور اگر پر ہجوم بازار میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو ایسی صورت میں ٹھیکہ داری پر کئے جانے والے اس کاروبار میں ملوث کسی بھی شخص کا نام منظر عام پر نہیں آئے گا بلکہ وہ معصوم شمالی ہند کے نوجوان جو بندھوا مزدور کی طرح کام کر رہے ہیں وہ چلتے پھرتے چولہوں کے ساتھ نہ صرف اپنے لئے بلکہ سیاحوں کے لئے بھی خطرات پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔