امریکی کی جانب سے ٹیرف اور H1B فیس میں اضافہ پر ریونت ریڈی کا اظہار تشویش

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے امریکی حکومت کی جانب سے ہندوستانی اشیاء پر ٹیرف میں اضافہ اور H1B ویزا فیس میں اضافہ کے فیصلہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے بزنس لیڈرس ، تھنک ٹینک نمائندے اور رضاکارانہ خدمات انجام دینے والی شخصیتوں پر مشتمل وفد نے آج چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ملاقات کی۔ امریکی وفد نے دونوں ممالک کے درمیان بہتر روابط ، سرمایہ کاری اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو کی موجودگی میں امریکہ وفد سے ملاقات کے دوران چیف منسٹر نے امریکہ کی ترقی میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلس کے غیر معمولی رول کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ H1B ویزا فیس میں اضافہ کے فیصلہ سے دونوں ممالک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور دونوں ممالک کے عوام بالخصوص طلبہ و پروفیشنلس میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ٹیرف میں اضافہ اور دیگر عجلت میں کئے گئے فیصلوں سے دونوں ممالک کے درمیان روابط پر اثر پڑسکتا ہے ۔ چیف منسٹر نے حیدرآباد کو عالمی معیار کے شہر کے طور پر ترقی دینے کیلئے حکومت کے اقدامات اور سرمایہ کاری کے مواقع کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود حکومتوں نے سابق میں طئے شدہ پالیسی سے انحراف نہیں کیا ہے۔ تلنگانہ رائزنگ 2047 ویژن کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ 2034 تک تلنگانہ کی معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد عالمی معیارات کے مطابق انفراسٹرکچر اور مینوفیکچرنگ شعبہ جات میں نیویارک ، ٹوکیو اور ساؤتھ کوریا سے مسابقت کر رہا ہے ۔ حکومت نے حیدرآباد کے لئے کئی گیم چینجرس پراجکٹس کا منصوبہ بنایا ہے جس میں ریجنل رنگ روڈ ، بھارت فیوچر سٹی ، ڈرائی پورٹ ،آندھراپردیش کی بندرگاہوں تک ریل رابطہ ، حیدرآباد میٹرو توسیعی منصوبہ اور موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ شامل ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ سے تلنگانہ کی معیشت کے استحکام کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ حیدرآباد کے روایتی ، تہذیبی اور ثقافتی ورثہ کے ساتھ موسیٰ ندی کو ترقی دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے بھارت فیوچر سٹی کی ترقی میں امریکی صنعت کاروں سے اپنا رول ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد امریکی کی فارچیون 500 کمپنیوں کو مدعو کیا جائے گا ۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی سریدھر بابو نے حیدرآباد کو اسکل کیاپیٹل کے طور پر ترقی دینے اور آرٹیفشل انٹیلجنس یونیورسٹی کے قیام کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ کے دوران حیدرآباد نے دنیا کو ویکسین سربراہ کی تھی۔ امریکی وفد میں پروفیسر وارٹر رسل میڈ، مارک روسن بلاٹ ، ہارلن کرو ، ہنری بلنگسٹی اور دوسرے موجود تھے۔ چیف منسٹر کے مشیر نریندر ریڈی ، چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ ، اسپیشل چیف سکریٹری سنجے کمار ، چیف منسٹر کے پرنسپل سکریٹری شیشادری ، پرنسپل سکریٹری سید علی مرتضیٰ رضوی اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔
