الیکشن کمیشن کے ’’SIR اسکینڈل‘‘ پر کے ٹی آر کا شدید ردعمل

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے چلائے جارہے ووٹر لسٹوں کی جامع نظرثانی (SIR) کے عمل پر خود الیکشن کمشنرس کی جانب سے سنگین اعتراضات اور اندرونی اختلافات کی خبروں کے بعد ملک بھر کی سیاست میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ اس قومی تنازعہ پر بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ’’انڈین ایکسپریس‘‘ میں شائع ہونے والی تہلکہ خیز رپورٹ پر اپنا شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ اس پورے معاملے کا خود سے (Suo Moto) نوٹس لے اور اعلیٰ سطحی انکوائری کے احکامات جاری کریں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ فی الوقت الیکشن کمیشن آف انڈیا کی کارکردگی، غیر جانبدارانہ حیثیت اور شفافیت شدید بحران کا شکار ہے۔ SIR پروسیس سے متعلق پہلے ہی عوام اور اپوزیشن جماعتوں کے ذہنوں میں بے شمار سوالات اور خدشات موجود تھے اور الیکشن کمشنرس کے اندرونی اختلافات کی خبروں نے ان شکوک و شبہات کو مزید یقینی بنا دیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا الیکشن کمیشن جیسے اہم دستوری ادارے پر لگائے گئے ان الزامات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے علاوہ کسی دوسرے ادارے پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اعلیٰ ترین عدالت کے مداخلت سے آئینی جوابدہی طے ہوگی اور سچائی کھل کر عوام کے سامنے آئے گی۔ اس معاملے پر صرف تلنگانہ ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر اپوزیشن قائدین کا غصہ بھی سڑکوں اور ایوانوں میں نظر آرہا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے سینئر قائد سنجے راوت نے الیکشن کمیشن کے اس رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اس بے ضابطگی پر جیل جانا چاہئے۔ اپوزیشن جماعتوں نے (ECI) کے اندرونی اختلافات کے افشاء کے بعد چیف الیکشن کمشنر سے فوری جواب طلبی اور تحریری وضاحت کا مطالبہ تیز کردیا ہے۔
