سپریم کورٹ نے متنازعہ فلم ’ ہم دو ہمارے بارہ‘ پر پابندی عائد کردی

فلم ‘ہم دو ہمارے بارہ’ کی ریلیز پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ پابندی سپریم کورٹ نے لگائی ہے۔ یہ فلم کل جمعہ 14 جون کو ریلیز ہونے والی تھی۔ سپریم کورٹ میں فلم کی ریلیز کی اجازت دینے والے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ‘ہم نے صبح فلم کا ٹریلر دیکھا ہے اور ٹریلر میں موجود تمام مکالمے (ڈائیلاگس) قابل اعتراض ہیں’۔ عدالت نے کہا کہ "ہمیں یقین ہے کہ سی بی ایف سی، جو کہ ایکٹ کے تحت ایک قانونی ادارہ ہے، اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔” عدالت عظمیٰ نے بمبئی ہائی کورٹ میں داخل کردہ درخواست کی مکمل یکسوئی تک فلم کی نمائش پر پابندی عائد کردی۔ تمام اعتراضات بمبئی ہائی کورٹ کے سامنے اٹھانے کیلئے فریقین کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے، بشمول کمیٹی کا انتخاب کرنے کے لیے سی بی ایف سی کو ہدایت دی گئی ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ میں فلم ہم دو ہمارے بارہ کی ریلیز کی اجازت کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت ہوئی۔ بمبئی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ فلم اسلامی عقیدے کے خلاف ہے اور ہندوستان میں شادی شدہ مسلم خواتین کی توہین کرتی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اس فلم میں انو کپور، منوج جوشی، پارتھ سمانتھن، پریتوش ترپاٹھی شامل ہیں۔ اس فلم کی کہانی کی بات کریں تو اس میں 60 سالہ منصور علی خان سنجاری نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے پہلے ہی 11 بچے ہیں۔ اس کی پہلی بیوی 6 بچوں کو جنم دینے کے بعد انتقال کر گئی۔ اس کے بعد وہ اپنے سے 30 سال چھوٹی لڑکی سے شادی کرتا ہے۔ ان کی دوسری بیوی سے پانچ بچے ہیں۔ اس کی بیوی چھٹی بار حاملہ ہو جاتی ہے۔ خان صاحب فخر سے کہتے ہیں کہ اگر اگلے سال مردم شماری ہوئی تو اس گھر میں ہم دو اور ہمارے بارہ ہوں گے۔ فلم میں موڑ اس وقت آتا ہے جب ڈاکٹر کہتا ہے کہ رخسانہ کا اسقاط حمل نہ ہوا تو اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس پر خان کی بڑی بیٹی الفیہ نے ہمت کی اور اتر پردیش ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ میں مقدمہ دائر کر کے مطالبہ کیا کہ اس کی سوتیلی ماں کو اسقاط حمل کی اجازت دی جائے۔
