مرکز نے 3 طلاق پر پابندی کے 2019ء کے قانون کا دفاع کیا

MODI-MUSLIM-WOMEN-780x470

تین طلاق کو جرم قرار دینے کے اپنے 2019ء کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا کہ یہ رواج شادی کے سماجی ادارہ کے لئے ”مہلک“ تھا۔ قانون کے خلاف داخل درخواستوں کے جواب میں حلف نامہ میں ہندیونین نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2017ء میں اِس رواج کو پرے رکھ دیا تھا، لیکن طلاق کے واقعات میں کمی نہیں آسکی تھی۔ پارلیمنٹ نے اپنے فہم و ادراک سے قانون بنایا تاکہ شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کا تحفظ ہو۔ دو مسلم تنظیموں جمعیت علمائے ہند اور سمستھ کیرالا جمعیت العلماء نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ اِس قانون کو غیردستوری قرار دیا جائے۔