نیپال کی سیاست اور معیشت پر چین کا کالاسایہ، تبتی مہاجرین کی زندگیاں بھی خطرے میں

چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اب صرف نیپال کی سیاست اور معیشت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا تبتی مہاجرین کی زندگیوں پر بھی گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ نیپال میں تقریباً 10,000 تبتی پناہ گزینوں کی صورت حال اب دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ اس سال، میں نے نیپال میں ایک مہینہ گزارا اور تبتی پناہ گزینوں کے کیمپوں کا دورہ کیا، جہاں میں نے دیکھا کہ چین کے بڑھتے ہوئے دباو¿ سے تبتیوں کی ثقافتی آزادی کس طرح خطرے میں ہے۔ نیپال میں چینی فنڈ سے چلنے والے منصوبوں کا سیلاب آ گیا ہے۔ لمبینی اور پوکھرا میں علاقائی ہوائی اڈوں کی تعمیر سے لے کر الیکٹرک بسوں کے آغاز تک ہر جگہ چینی اثر نظر آتا ہے۔ نیپال کو ان منصوبوں سے مختصر مدت کے معاشی فائدے تو مل سکتے ہیں، لیکن اسے نیپال کی آزادی کی صورت میں اس کی بڑی قیمت چکانی پڑی ہے۔ نیپال، جو برسوں سے بھارت اور چین کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اب تیزی سے چینی اثر و رسوخ کی زد میں آ رہا ہے۔ چین کی اقتصادی امداد نیپال کی پالیسیوں میں تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے، جو اس کی طویل مدتی خودمختاری کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر تبتی مہاجرین کمیونٹی پر پڑا ہے۔ تبتی جو کبھی اپنے ملک سے بھاگ کر نیپال آئے تھے اب نیپال میں بھی ثقافتی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ تبتی شناخت کی علامتیں، جیسے ‘فری تبت’ ٹی شرٹ پہننا، تبتی پرچم لہرانا یا روایتی ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینا، اب مشکل ہو گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ممکنہ طور پر چینی دباو¿ پر عمل کرتے ہوئے تبتی ثقافتی تقریبات کو روکنا شروع کر دیا ہے۔ ایسی ہی ایک ثقافتی تقریب جو خطرے میں ہے وہ ہے لہر (سفید بدھ)۔ یہ تبتی فخر اور شناخت کا ہفتہ وار اظہار ہے۔ ہر بدھ کو تبتی لوگ اپنی زبان بولتے ہیں، روایتی لباس پہنتے ہیں اور تبتی ملکیتی کاروباروں کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن اب یہ بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ چین کے زیر اثر نیپال میں تبتیوں کے لیے اپنی روایات کو زندہ رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال تبتی مہاجرین کے بنیادی حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔ تبتی کمیونٹیز، جو امن اور آزادی کی تلاش میں نیپال آئے تھے، اب خود کو اسی جبر کا شکار پا رہے ہیں جس سے وہ فرار ہونے کے لیے بھاگے تھے۔
