امریکہ میں جمہوریت خطرے میں ہے، سروے میں تین چوتھائی ووٹرز کا دعویٰ

امریکہ میں صدارتی انتخابات 5 نومبر کو ہونے ہیں۔اس دوران کئی اخبارات اور انتخابی سروے کرنے والے ادارے ووٹرز کے دلوں کی بات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز اور سیئنا کالج نے مشترکہ طور پر ایک سروے کیا ہے۔ اس سروے کے مطابق تین چوتھائی ووٹروں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے۔ نیویارک ٹائمز-سیئنا کالج کے اس سروے کے مطابق، تمام امریکی رائے دہندگان میں سے تقریباً نصف ووٹروں کا خیال ہے کہ امریکی جمہوریت عام لوگوں کی نمائندگی کرنے کا اچھا کام نہیں کر رہی ہے۔ تین چوتھائی ووٹروں کا کہنا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔ اخبار نے اس رائے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رائے متعصبانہ جھکاو¿ کے لحاظ سے وسیع پیمانے پر مختلف ہے۔ زیادہ تر ووٹروں کا خیال ہے کہ ملک بدعنوانی کا شکار ہے۔ اس سروے کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 250 سال پرانے امریکی حکومتی نظام میں اعتماد کم ہونے کی وجہ چار سال کے بے مثال چیلنجز ہیں۔ ان میں2020 کے صدارتی انتخابات کو الٹنے کی کوشش میں پرتشدد فسادات اور بگڑتی ہوئی معیشت اہم عوامل ہیں۔ تقسیم کلچر اور جغرافیائی سیاسی بحران سے ووٹرز پریشان ہیں۔ ووٹرز کا خیال ہے کہ امریکی حکومت بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 58 فیصد ووٹرز چاہتے ہیں کہ ملک کے مالیاتی اور سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
