مہاراشٹر الیکشن: کانگریس کے کئی لیڈر ہمارے رابطے میں، مجھ سے نام مت پوچھئے، دیویندر فڑنویس کے دعوی کھلبلی

1011759243

مہاراشٹر ہندوستان کی انتخابی سیاست میں کافی اہم ہے۔ یہ ریاست لوک سبھا اور اسمبلی سیٹوں کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ مہاراشٹر میں 20 نومبر کو اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، اس لیے سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ اس بار بنیادی طور پر دو اتحادوں کے درمیان ٹکر ہے۔ ایک طرف حکمراں مہایوتی ہے اور دوسری طرف مہاوکاس اگھاڑی یعنی ایم وی اے ہے۔ دونوں سیاسی اتحادوں میں تین تین سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ مہایوتی کی اہم اتحادی پارٹی بی جے پی کے سینئر لیڈر اور نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کے دعوے کی وجہ سے انتخابی ریاست مہاراشٹر کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ فڑنویس نے کہا کہ کانگریس کے بہت سے لیڈر بی جے پی میں شامل ہونے کیلئے تیار ہیں… بس مجھ سے ان کے نام مت پوچھئے گا۔ دراصل کانگریس لیڈر روی راجہ بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن کانگریس کے لیے اسے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر دیویندر فڑنویس نے چونکا دینے والا دعویٰ کیا ۔ ڈپٹی سی ایم فڑنویس نے کہا کہ روی راجہ کے ساتھ ساتھ، کانگریس کے بہت سے لیڈر ہمارے رابطے میں آ رہے ہیں اور وہ بی جے پی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ فرنویس نے مزید کہا کہ وہ لیڈران جلد ہی کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو جائیں گے۔ مجھ سے ان کا نام مت پوچھئے، لیکن آنے والے دنوں میں کانگریس کے بہت سے لیڈر ہمارے ساتھ آئیں گے۔ اس سے ایک اور اشارہ بھی ملتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مہاراشٹر میں پارٹی بدلنے والے لیڈروں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ وہیں ماہم سیٹ کو لے کر تنازع پر فڑنویس نے کہا کہ ہم مہیم اسمبلی حلقہ میں راج ٹھاکرے کی حمایت کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ جلد ہی کوئی حل نکل آئے گا۔ جہاں تک شمالی ہند کے لوگوں میں راج ٹھاکرے کی مخالفت کا تعلق ہے، تو ہم نے لوک سبھا انتخابات کے دوران ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ راج ٹھاکرے نے ہندوتوا کا راستہ اختیار کیا ہے۔ بتادیں کہ ماہم سیٹ پر ایم این ایس سپریمو راج ٹھاکرے کے بیٹے امیت ٹھاکرے میدان میں ہیں۔ دوسری طرف ایکناتھ شندے گروپ والی شیو سینا نے بھی یہاں سے امیدوار کھڑا کردیا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دیویندر فڑنویس کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ وہ ماہم سیٹ پر راج ٹھاکرے کے بیٹے کی حمایت کے اپنے موقف پر قائم ہیں۔