رامبن میں پانچ دہشت گردوں کی جائیدادیں ضبط

جموں و کشمیر پولیس نے رامبن ضلع کے گول علاقے میں کالعدم دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کے پانچ کارندوں کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔سرکاری ترجمان کے مطابق یہ پانچ دہشت گرد سراج دین سکنہ سنگلدان، ریاض احمد ساکنہ ڈلوہ، فاروق احمد ساکنہ بنج بھیمداسہ، محمد اشرف اور مشتاق احمد ساکنہ موائلا ضلع رامبن شامل ہیں اور حال میں مقبوضہ کشمیر مقیم ہیں اور وہیں سے اپنی سرگرمیاں چلا رہے ہیں۔پولیس کے مطابق یہ دہشت گرد اپنی جائیدادیں فروخت کر کے دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل اکٹھے کرنا چاہتے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ ان جائیدادوں کی ضبطی دہشت گردی کی فنڈنگ کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور وادی میں دہشت گردی کے احیاء کو روکنے کے لیے ایک فیصلہ کن اقدام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی سے مقبوضہ کشمیر میں بیٹھے دہشت گردوں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے احیاء کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد ہتھیاروں کی تربیت حاصل کرنے اور بھارت میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے پی او جے کے فرار ہوئے تھے۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق وہ اپنی غیر منقولہ جائیدادیں فروخت کر کے دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنے اور مقامی نوجوانوں کو دہشت پسندی کی راہ پر لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔اس حوالے سے سب ڈویژنل پولیس آفیسر گول کے جاری کردہ ضبطی حکم کے تحت ان جائیدادوں کی فروخت، لیز یا کسی بھی قسم کا لین دین بغیر اجازت ممکن نہیں ہوگا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس ضبطی سے دہشت گردی کے لیے ممکنہ مالی وسائل کا راستہ بند کر دیا گیا ہے، جو حزب المجاہدین کی سرگرمیوں کے احیاء کے لیے استعمال ہو سکتے تھے۔ پولیس کے مطابق ان افراد کے اہلِ خانہ کو اب قانونی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے وہ دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے بالواسطہ مدد فراہم نہیں کر سکیں گے۔جموں و کشمیر انتظامیہ دہشت گردی کی مالی معاونت، اوور گراؤنڈ ورکر نیٹ ورکس اور فرار شدہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں حالیہ برسوں میں دہشت گرد نیٹ ورک کو نمایاں طور پر کمزور کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ کارروائی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے عین مطابق ہے۔
