ٹرمپ کی پالیسیوں اور روس۔یوکرین جنگ سے سونے کی قیمتوں میں اضافہ

سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ نے عالمی سطح پر مالیاتی اداروں کے درمیان سرمایہ کاری کی نئی مسابقت کا آغاز کردیا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں سونے کی قیمت میں اضافہ کا رجحان برقرار ہے اور اس کا اثر عالمی مارکٹ پر دیکھا جارہا ہے ۔ ماہرین کو امید ہے کہ سونے کی قیمت میں اضافہ اپنی آخری حد کو پہنچنے کے بعد کمی کی طرف مائل ہوگا جبکہ بعض دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کے کاروبار میں زائد منافع کے پیش نظر سرمایہ کاری میں اضافہ کے نتیجہ میں قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی معاشی پالیسیوں نے جس طرح امریکہ کی معیشت کو نقصان پہنچایا ، اس کا اثر عالمی منڈی میں دیکھا جارہا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتیجہ میں امریکہ میں شٹ ڈاؤن کی صورتحال ہے جس کے نتیجہ میں نہ صرف روزگار کے مواقع میں کمی آئی ہے بلکہ امریکی ذخائر کی جانب سے سود کی شرح میں مزید کمی کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ سرمایہ کار اپنے فنڈس کو سونے اور چاندی کے کاروبار میں منتقل کرنے پر مجبور ہے جس کا اثر قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں منظر عام پر آیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکی صدر نے نئی ٹیرف پالیسی اختیار کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو زائد آمدنی والے سونے کے کاروبار کی طرف راغب کردیا ہے۔ ہندوستان میں عید اور تہواروں کے موقع پر سونے کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ نے غریب اور متوسط طبقات کی خوشیوں کو متاثر کردیا ہے ۔شادی بیاہ کے موقع پر سونے کی خریداری ان خاندانوں کے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے۔ ہندوستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ کا اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اندیشہ ہے کہ 24 کیرٹ گولڈ کی قیمت 1.5 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ملک کے اہم شہروں میں سونے کی قیمت میں معمولی کمی و بیشی دیکھی گئی ہے۔ حیدرآباد میں 24 کیرٹ گولڈ کی قیمت ایک لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ 22 کیرٹ گولڈ کی قیمت ایک لاکھ 11 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ چاندی کی قیمت فی کیلو ایک لاکھ 54 ہزار ہے۔ اسٹاک مارکٹ میں گزشتہ چند دنوں سے سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافہ کا رجحان برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی حکومت کی پالیسیوں میں یہ صورتحال پیدا کردی اور خود امریکہ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران سونے کی قیمت میں اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق تہواروں کے سیزن میں سونے کی قیمت میں اضافہ کا رجحان معمول کے مطابق ہے لیکن اس کی اہم وجہ 28 جویلری کمپنیوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔ گزشتہ 10 برسوں میں جویلری کمپنیوں کی سرمایہ کاری میں اضافہ درج کیا گیا۔ ٹیرف پالیسی اور امریکہ میں شٹ ڈاؤن کا اثر امریکی کرنسی ڈالر پر بھی پڑسکتا ہے ۔ 2020 سے 2025 کے درمیان سونے کی قیمت 3944.64 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ہندوستانی ماہرین کے مطابق اضافہ کے یہ رجحان دیرپا نہیں رہے گا۔اسٹاک مارکٹ میں جویلری سپلائی کمپنیوں کے شیئرس میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔اسٹاک مارکٹ پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان میں بھی گولڈ سپلائی چین کو متاثر کیا ہے جس کے نتیجہ میں کمپنیوں نے سونے کی ریٹیل کاروبار تک پہنچنے کے اخراجات میں اضافہ کا دعویٰ کیا ہے۔
