سماجی انصاف، اقلیتوں کی ترقی ، خواتین کو بااختیار بنانے پر حکومت کی توجہ

حکومت تلنگانہ ریاست میں سماجی انصاف ‘ اقلیتوں کی ترقی ‘ خواتین کو بااختیار بنانے کے علاوہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے اقدامات کے ذریعہ معاشی طور پر مستحکم بنانے کی سمت متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے یوم تاسیس تلنگانہ کی سرکاری تقریب میں پریڈ گراؤنڈ پر ’پرچم کشائی ‘ کے بعد کئے گئے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہو ںنے اپنے خطاب کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کے تمام طبقات ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیتوں کے لئے حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی فلاحی اسکیمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ریاست میں تمام طبقات کی یکساں ترقی کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام کے اضافی اخراجات جو 10ہزار روپئے تھے ان کی ریاستی حکومت کی جانب سے ادائیگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے لمحہ آخر مرکزی حکومت کی جانب سے کئے گئے اس اضافہ کو ادا کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ تلنگانہ سے روانہ ہونے والے حجاج کرام کو سہولت فراہم کی جاسکے۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا تلنگانہ محض ایک ریاست نہیں بلکہ خوداری ‘ جدوجہد اور عزت نفس کے لئے قربانی دینے کی علامت ہے ۔ انہوں نے ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے لئے ریاست میں امن و امان کی برقراری اور فرقہ وارانہ بھائی چارہ کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت تلنگانہ کو ملک بھر میں قومی یکجہتی کی علامت کے طور پر پیش کرنے کی منصوبہ بندی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے مجوزہ پراجکٹ موسیٰ ندی کوخوبصورت بناتے ہوئے ترقی دینے کے پراجکٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ موسیٰ ندی کے طاس پر جہاں تجارتی و تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے وہیں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ موسیٰ ندی کے طاس میں تمام بڑے مذاہب کی علامات تعمیر کی جائیں جن میں چارمینار کے قریب موسیٰ ندی میں مسجد کی تعمیر ‘ کے علاوہ 21 کیلومیٹر کے اس پراجکٹ میں مندر‘ گرجا گھر اور گرداورہ تعمیر کرنے کا بھی منصوبہ تیار کیاگیا ہے۔ مسٹر ریونت ریڈی نے حصول تلنگانہ کے لئے اپنی زندگیوں کی قربانی دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے ان خاندانوں اور تلنگانہ جہدکاروں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ’مجاہدین تلنگانہ ‘ کے زمرہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ میں ان کی حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی اسکیمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں بسنے والے تمام طبقات کی یکساں ترقی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کام کر رہی ہے اور حکومت کی ترجیحات میں خواتین کو با اختیار بنانے ‘ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور اقلیتوں و پسماندہ طبقات کی ترقی کو یقینی بنانا شامل ہے۔چیف منسٹر تلنگانہ نے کہا کہ تلنگانہ میں رہنے والا ہر شخص ’تلنگانہ تلی ‘ کا فرزند ہے اور حکومت ہر بیٹے کا مساوی خیال رکھنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے ریاست میں موجود تاریخی منادر کی تزئین نو اور تعمیر کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے ویملواڑہ مندر کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ مذکورہ مندر کے تعمیری کام بھی تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت نے ذات پات پر مبنی سروے کے ذریعہ تلنگانہ عوام میں پائی جانے والی غربت ‘ تعلیمی پسماندگی ‘ معاشی ابتری کے علاوہ سماجی تفاوت کی نشاندہی کو یقینی بناتے ہوئے اسے عوام کے سامنے لایا ہے اور حکومت نے اس سروے کے مطالعہ سے یہ محسوس کیا ہے کہ ریاست میں تعلیمی و معاشی پسماندگی کو دور کرتے ہوئے تمام طبقات کی یکساں ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر نے ریاستی حکومت کی جانب سے ’اندراماں ‘ امکنہ اسکیم کے تحت غریب خاندانوں کو مکان کی فراہمی کے علاوہ نئے راشن کارڈس کی اجرائی اور باریک چاول کی فراہمی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت غریب عوام کو اپنے ذاتی مکان کا خواب دیکھتے ہیں انہیں پورا کرنے کے علاوہ انہیں معیاری چاول کی فراہمی کے ذریعہ تحفظ غذاء فراہم کر رہی ہے۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے اپنے خطاب کے دوران ریاست میں حکومت کی جانب سے خواتین کے لئے چلائی جانے والی مفت بس خدمات ‘ 200 یونٹ مفت برقی کے علاوہ 500 روپئے میں گیاس سلنڈر کی فراہمی کی اسکیمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان اسکیمات میں مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر عمل نہیں کیا جا رہاہے بلکہ ان اسکیمات سے تمام مستحقین کو فائدہ حاصل ہورہا ہے ۔ انہوں نے تعلیمی ترقی کے لئے ریاستی حکومت کے اقدامات کے علاوہ بے روزگار نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا.
