تلنگانہ میں پون کلیان کی جائیدادوں کی تحقیقات پر زور

قانون داں اور سماجی جہدکار لبنیٰ ثروت نے رنگاریڈی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سے حیدرآباد سے قریب جنواڑہ ولیج میں آندھرا پردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر پون کلیان کی ملکیت اراضی کے معاملہ میں تحقیقات کرنے پر زور دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس میں اراضی ریکارڈس میں بے قاعدگیاں ہیں اور گورنمنٹ اسائنڈ لینڈ اور ایک مقامی جھیل کی اراضی ہونے کے ممکنہ ایشیوز ہیں ۔ رنگاریڈی ڈسٹرکٹ کلکٹر کے پاس 2 جون کو داخل کی گئی ایک نمائندگی میں لبنیٰ ثروت نے جنواڑہ ولیج کے سروے نمبر 696 میں پون کلیان کی جانب سے ڈیکلر کی گئی تقریبا آٹھ ایکر اراضی کے سلسلہ میں تحقیقات کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ اس بات کی وضاحت کریں کہ کیا یہ اراضی ’ اسائنڈ لینڈ ‘ ہے ۔ اسائینڈ لینڈ وہ اراضی ہوتی ہے جسے حکومت کی جانب سے غریب خاندانوں کو الاٹ کیا جاتا اور اسے قانون کے تحت فروخت یا منتقل نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ ثروت نے کہا کہ سرکاری ریکارڈس سے معلوم ہوتا ہے کہ سروے نمبر 696 کے تحت متعدد سب ڈیویژنس ہیں جس میں کئی ڈیویژنس میں بیع کی معاملتوں پر پابندی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ پون کلیان کے انتخابی حلف نامہ میں اراضی کو سروے نمبر 696 کے طور پر کس طرح بتایا گیا ہے اور انہوں نے اس اراضی کی ملکیت اور قانونی موقف کے بارے میں ایک صاف وضاحت کرنے پر زور دیا ہے ۔ حیدرآباد کی اس قانون داں نے اسی ولیج میں سروے نمبر 706 میں پون کلیان کی جانب سے ڈیکلر کی گئی ایک اور جائیداد کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی ہے ۔ پون کلیان کے 2024 کے انتخابی حلف نامہ کے مطابق وہ سروے نمبر 706 میں 10 ایکر زرعی اراضی کے مالک ہیں جسے 2014 میں خریدا گیا تھا اور سروے نمبر 696 میں دیگر دو اراضیات کو جن کا رقبہ 4.02 ایکر اور 4 ایکر ہے ۔ 2002 میں خریدا گیا تھا ۔ لبنیٰ ثروت نے کہا کہ سروے نمبر 706 کا حصہ جنواڑہ ولیج کے ایک تالاب ، کوڈی چیرو کے فل ٹینک لیول (ایف ٹی ایل ) میں آتا ہے ۔ انہوں نے عہدیداروں پر زور دیا کہ یہ دیکھیں کہ آیا تالاب کے علاقہ میں کوئی تعمیر یا ڈیولپمنٹ کے کام ہوئے ہیں اور کیا اراضی ریکارڈس کو صحیح طر پر رکھا گیا ہے ۔ اس نمائندگی میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ریونیو ریکارڈس ، رجسٹریشن ریکارڈس اور کوڈی چیرو کے سرکاری نقشوں کے درمیان فرق پایا جاتا ہے ۔
