امریکہ میں 2003 کے بم دھماکے کا ملزم 21 سال بعد برطانیہ سے گرفتار

n6410213881732706766634ec5e530aece989cfe10a1533185139e4d04ce7fbf6efdcd42e64545fa0e08365

امریکہ کے کیلیفورنیا میں بائیوٹیک کمپنی میں 2003 میں ہونے والے بم دھماکے کے ملزم ڈینیئل اینڈریس سان ڈیاگو کو 21 سال بعد برطانیہ کے شہر ویلز سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ معلومات امریکی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے دی ہے۔ ملزم ڈینیئل سان ڈیاگو جانوروں کے حقوق کا کارکن تھا جس نے بائیوٹیک کمپنی میں بم دھماکہ کیا۔ کیلیفورنیا بم دھماکہ کیس سان ڈیاگو پر اگست 2003 میں اوکلینڈ، کیلیفورنیا کے قریب بائیوٹیک فرم "چیرون انکارپوریشن” میں دو بم نصب کرنے کا الزام ہے۔ تاہم دوسرے بم کو تفتیشی افسران نے ناکارہ بنا دیا۔ اس کے بعد ایک ماہ بعد سان ڈیاگو نے کیلیفورنیا میں ایک اور کمپنی میں تیسرا بم نصب کیا تاہم ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ملزمان کی گرفتاری اور قانونی چارہ جوئی ایف بی آئی نے کہا کہ ڈینیئل سان ڈیاگو کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی، کاؤنٹر ٹیررازم پولیس اور نارتھ ویلز پولیس نے مشترکہ طور پر گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری ایف بی آئی کے تعاون سے عمل میں آئی۔ ڈیاگو پر 2009 میں الزام عائد کیا گیا تھا اور وہ تب سے مفرور تھا۔ دھماکوں کے پیچھے کیا وجوہات تھیں؟ سان ڈیاگو اور اس کے اتحادیوں نے یہ بم دھماکے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘ریولوشنری سیلز’ کی چھتری تلے کیے تھے۔ یہ تنظیم بائیوٹیک کمپنیوں، خاص طور پر "ہنٹنگڈن لائف سائنسز” نامی کمپنی کے ذریعے جانوروں کی جانچ کے خلاف تھی۔ اس کمپنی پر جانوروں پر ظلم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، جس کی وجہ سے جانوروں کے حقوق کی تنظیم ناراض تھی۔ اس کے نتیجے میں سان ڈیاگو بم دھماکے ہوئے۔ ایف بی آئی کا بیان اس گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے کہا کہ اس کارروائی سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی ملزم کتنے ہی سال بھاگ جائے، تفتیشی ایجنسیاں اسے پکڑنے میں کبھی ہمت نہیں ہارتیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا درست طریقہ ہے لیکن تشدد کرنا اور املاک کو نقصان پہنچانا درست طریقہ نہیں ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سان ڈیاگو میں ہونے والی گرفتاری نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکی قانونی نظام کسی بھی مشتبہ شخص کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، چاہے وہ کتنے ہی سال روپوش رہے۔