آزادی میں اردو صحافت کا اہم کردار رہا،ممتاز صحافیوں پر جامعات میں بھی تحقیق ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر شمس اقبال

n631346003172662728366117cadb87c6405ff6a3b7289d75c921e359829f82f336eb3ef1992a90402cc09d

ہندوستان کی جنگ آزادی میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والا صحافی اسی اردو زبان نے پیدا کیا تھا، جس کی کوکھ سے انقلاب زندہ با دکے نعرے نے جنم لیا تھا۔ اس جید صحافی اور شہید اعظم کانام تھا مولوی محمد باقر۔ اردو والے عام طور پر ‘آبِ حیات’ والے مولانا محمد حسین آزاد کے نام سے تو واقف ہیں لیکن کم ہی لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ ان کے والد مولوی محمد باقر ارد وکے ایک جید صحافی تھے۔ اور انھوں نے پہلی جنگ آزادی میں جام شہادت نوش کیا تھا۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز صحافی معصوم مرادآبادی نے کیا جنہوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، زیر اہتمام پہلے شہید صحافی مولوی محمد باقر پر یادگاری خطبہ دیا ۔ جبکہ صدارت سینئر صحافی اور ادیب اسد رضا نے کی معصوم مرادآبادی نے اپنے خطبہ میں کہا کہ انھیں یہ سزا اپنے ہفتہ وار ‘دہلی اردو اخبار’ میں پہلی جنگ آزادی کی والہانہ اور سچی رپورٹنگ شائع کرنے کے جرم میں دی گئی تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ انقلاب 1857 کے دوران سب سے زیادہ جری کردار ‘دہلی اردو اخبار’ نے ادا کیا۔ 17 مئی کو ہفتہ وار ‘دہلی اردو اخبار’ کا شمارہ منظرعام پر آیا تو اس کے صفحات انقلاب کی خبروں سے لبریز تھے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے ڈائرکٹر قومی کونسل ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ معاشرہ اور سماج میں صحافی کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اسی کے ذریعے عام لوگوں میں بیداری آتی ہے۔ ادیب اور صحافی لوگوں کی ذہن سازی میں اہم کردار ادارکرتے ہیں ،مادروطن کی آزادی میں بھی صحافت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب باضابطہ صحافیوں کے کردار پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے ،اردو کے ممتاز صحافیوں پر جامعات میں بھی تحقیق ہونی چاہیے۔آج مولوی باقر جیسے عظیم صحافی اور مجاہد کو یاد کیا جانا چاہیے اور ان کے کارناموں سے لوگوں کو واقف کرانا چاہیے ان ہی مقاصد کے تحت آج کے خطبہ کا اہتمام کیا گیا۔ سینئر صحافی اسد رضا نے صدارتی کلمات میں کہا کہ مولوی باقر مجاہد قلم تھے ،اتحاد بین المذاہب والمسالک میں مولوی باقر کا اہم کردار رہا ہے۔ڈائرکٹر شمس اقبال قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے اس عظیم صحافی کو یاد کرنے کے لیے خطبہ کا انعقاد کیا۔کونسل کی اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے اظہار تشکر کیا۔ اس موقعے پر جے این یو اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن کے طلبا کے علاوہ جناب محمد احمد(اسسٹنٹ ڈائرکٹر) ڈاکٹر کلیم اللہ (ریسرچ آفیسر)،انتخاب عالم (ریسرچ آفیسر)، شاہنواز محمد خرم (ریسرچ آفیسر)،ڈاکٹر مسرت (ریسرچ آفیسر)، محمد اجمل سعید (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر) ، ڈاکٹر امتیاز احمد (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر) اور کونسل کے دیگر عملہ اور ملازمین موجود رہے۔